بائیڈن اور نیتن یاہو کے بیچ ٹیلی فون پر "ایران پر حملے کے منصوبے" زیر بحث آئیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی ویب سائٹ Axiosنے تین امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ آج بدھ کے روز امریکی صدر جو بائیڈن کا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ متوقع ہے۔ رابطے میں ایران کو نشانہ بنانے سے متعلق منصوبوں کو زیر بحث لایا جائے گا۔

ویب سائٹ کے مطابق نیتن یاہو گفتگو میں بائیڈن کو ایران پر حملے کے سلسلے میں اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔ امریکی ذمے دار نے ویب سائٹ کو بتایا کہ واشنگٹن اس بات کی تصدیق چاہتا ہے کہ اسرائیل حد سے تجاوز کیے بغیر ایران میں اہم اہداف کو نشانہ بنائے۔

مشرق وسطی کا خطہ کشیدگی کا شکار ہے۔ اس وقت اسرائیل کی جانب سے اُس میزائل حملے پر رد عمل کا انتظار ہے جو ایران نے گذشتہ ہفتے کیا تھا۔ لبنان میں اسرائیل کی عسکری جارحیت کے جواب میں کیے گئے ایرانی حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔ واشنگٹن نے ایرانی کارروائی کو "غیر مؤثر" قرار دیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دھمکی دی تھی کہ ایران کو میزائل حملے کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ ادھر تہران کا کہنا ہے کہ کسی بھی انتقامی رد عمل کا جواب "بڑی تباہی" کی شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔ اس صورت حال نے خطے میں وسیع جنگ چھڑ جانے کا اندیشہ پیدا کر دیا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کا واشنگٹن کا دورہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی رپورٹوں کے مطابق گیلنٹ کی پرواز سے چند گھنٹے قبل نیتن یاہو نے انھیں سفر سے روک دیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے وزیر دفاع کو آگاہ کیا کہ سیکورٹی کابینہ کی طرف سے منظوری کے بعد ہی وہ دورے پر روانہ ہو سکیں گے۔

امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق مشرق وسطیٰ میں صورت حال خراب ہونے کے ساتھ وائٹ ہاؤس کے اسرائیلی حکومت پر اعتماد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ چار امریکی ذمے داران نے یہ تصدیق کی ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی حکومت کثیر جہتی جنگ میں اپنے عسکری اور سفارتی منصوبوں کے حوالے سے بائیڈن انتظامیہ کی نظر میں اعتبار کھوتی جا رہی ہے۔

امریکی ذمے داران کے مطابق بائیڈن انتظامیہ گذشتہ ہفتے ہونے والے ایرانی حملے پر اسرائیل کے رد عمل کی مخالف نہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ جوابی کارروائی سوچ سمجھ کر کی جائے۔

امریکی ویب سائٹ Axios نے دو امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون نے تزویراتی امور کے اسرائیلی وزیر رون دیرمر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ سولیون نے رون کو آگاہ کیا کہ واشنگٹن ایران پر جوابی کارروائی کے منصوبوں کے سلسلے میں اسرائیل سے "وضاحت اور شفافیت" کی توقع رکھتی ہے، اس لیے کہ یہ رد عمل خطے میں امریکی افواج اور مفادات پر اثر انداز ہو گا۔

ویب سائٹ نے امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ حالیہ عرصے میں اسرائیل کی عسکری یا انٹیلی جنس کارروائیوں کے سبب کئی مرتبہ حیران ہو چکی ہے۔

بعض مرتبہ نہ امریکا سے مشاورت کی گئی اور نہ اسے پیشگی اطلاع دی گئی۔ بعض مرتبہ واشنگٹن کو اس وقت آگاہ کیا گیا جب اسرائیلی طیارے مشرق وسطی میں کسی جگہ فضائی حملوں کے لیے راستے میں ہوتے تھے۔

اسرائیل نے تہران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو ہلاک کرنے کی کارروائی کے حوالے سے بھی بائیڈن انتظامیہ کو پیشگی طور پر آگاہ نہیں کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں