مصرکی دقہلیہ گورنری میں ایک خاتون نے سونے کی بالیاں چرانے کے لیے چار سالہ بچی بےرحمی سے قتل کردی۔اس واقعے نے ہر طرف صدمے اور شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔
دقہلیہ سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ میں سکیورٹی سروسز نے گذشتہ اتوار سے لاپتہ ہونے والی چار سالہ بچی لمیس کی گمشدگی کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ بچی کی لاش ایک مکان کی بالکونی میں ایک بوری میں بند کیے جانے کے بعد ایک کاٹن سے ملی۔
بچی کے والد نے بتایا کہ اس کی بیٹی ازبہ ابراہیم میں اس کے خاندان کے گھرمیں تھی جہاں سے وہ لاپتا ہے۔
کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے اس کی تلاش شروع کی۔ اس کے لیے انہوں کچھ مقامات سے مانیٹرنگ کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کی۔
پولیس نے بچی کےچچا کے گھر میں تلاشی لی تو انہیں بالکونی میں ایک کاٹن ملاجس میں بچی کی بوری بند لاش پڑی ہوئی تھی۔
پولیس نے بچی کی چچی کو گرفتار کرکے اس سے پوچھ گچھ کی تو پتا چلا کہ اس نے بچی کو اس کی سونے کی بالیاں چرانے اور قرض ادا کرنے کے لیے قتل کیا تھا۔
ضابطے کے مطابق ملزمہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہاہے کہ اس نے بچی کو لالچ دئ کر اس کے سونے کی بالیاں لینے کی کوشش کی۔ اس کے کانوں میں سونے کی بالیاں حاصل کرنے کے لیے اس کا گلہ دباکر کراسے قتل کردیا۔ بچی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد اسے دفن کردیا گیا ہے اور قاتل خاتون سے مزید تفتیش کے بعد اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔