العربیہ اور الحدیث ذرائع نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ بغداد میں مسلح دھڑوں نے اسرائیلی حملے کے پیش نظر اپنے ہیڈ کوارٹرز کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ لبنان میں اسرائیلی فوج کی بڑھتی ہوئی کارروائی کے جواب میں گذشتہ ہفتے ایرانی میزائل حملے کے جواب میں اسرائیل کے ردعمل کا منتظر ہے۔ ایرانی حملہ بالآخر اسرائیل میں کسی کی ہلاکت کا باعث نہیں بنا تھا اور واشنگٹن نے اسے غیر موثر قرار دیا۔
درجنوں ایرانی میزائلوں اسرائیل کی طرف فائر کیے گئے تھے ۔ واشنگٹن نے اسرائیل کی حمایت کی دھمکی دی تھی اور عراقی دھڑوں نے اعلان کیا کہ اگر امریکہ اسرائیل پر ایرانی حملوں کے جواب میں شامل ہوا تو عراق اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
نیتن یاہو نے ایران کو کہا ہے کہ اسے اپنے میزائل حملے کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ تہران نے کہا کہ کسی بھی انتقامی کارروائی کا سامنا وسیع پیمانے پر تباہی سے کیا جائے گا۔ دونوں اطراف کے ان بیانات سے تیل پیدا کرنے والے خطے میں ایک وسیع جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ایران کے وفادار عراقی مسلح دھڑوں جن میں حزب اللہ بریگیڈز، سید الشہداء بریگیڈز اور نجابہ موومنٹ شامل ہیں کو " اسلامی مزاحمت عراق " کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس گروپ نے غزہ جنگ کے تناظر میں حالیہ مہینوں میں اسرائیل میں اہداف پر ڈرون حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اپریل کے بعد سے اسرائیل نے کسی مخصوص فریق کی طرف انگلی اٹھائے بغیر مشرق سے متعدد فضائی حملوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیل نے کئی بار اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود سے باہر ڈرون کو روک دیا۔ لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک سال سے جاری جنگ نے مشرق وسطیٰ میں تنازع کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اس جنگ میں اسرائیل کے اتحادی امریکہ کو کھینچے جانے کا بھی امکان پیدا ہوگیا ہے۔ لبنان کی صورت حال گزشتہ چند ہفتوں میں شدید خراب ہوگئی ہے۔ اسرائیل نے حزب اللہ کے سینئر رہنماؤں کے قتل کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اب اسرائیل نے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں بھی شروع کردی ہیں۔ حزب اللہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی حمایت یافتہ دھڑوں میں سب سے طاقتور مسلح گروپ ہے اور یہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے خلاف لڑنے والے فلسطینی دھڑوں کی حمایت میں اسرائیل پر حملے کرتا ہے۔