نکاراگوا نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

وسطی امریکی ملک نکاراگوا نے اسرائیلی حکومت کو "فسطائی" اور "نسل کشی کرنے والی" قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔

نکاراگوا کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ سفارتی تعلقات میں خرابی فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے آئی ہے۔

نکاراگوا کی کانگریس نے گذشتہ روز غزہ جنگ کی پہلی برسی کے موقع پر کارروائی کرنے کی درخواست کی تھی۔

نکاراگوا کی حکومت نے کہا کہ یہ تنازعہ اب "لبنان کے خلاف بھی پھیل گیا ہے اور شام، یمن اور ایران کو شدید خطرہ ہے۔"

یکم اکتوبر کو ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد شرقِ اوسط مزید علاقائی کشیدگی کے خدشے کے تحت ہائی الرٹ پر ہے۔ ایران لبنان میں قائم حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے جسے اسرائیل نے حالیہ مہلک حملوں کے ایک سلسلے کا نشانہ بنایا ہے۔

ایران نکاراگوا کے صدر ڈینیئل اورٹیگا کی انتظامیہ کا اتحادی بھی ہے۔ اورٹیگا کی جانب سے 2018 میں حکومت مخالف مظاہروں پر کریک ڈاؤن کرنے کے بعد نکاراگوا حالیہ برسوں میں تیزی سے تنہا ہو گیا ہے جن کے بارے میں انسانی حقوق کے گروپ کہتے ہیں کہ ان میں 300 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں