سوشل میڈیا کے لیے دلچسپ مواد بنانے کی کوشش انفلوئنسرکے لیے جان لیوا بن گئی
سوشل میڈیا پرحیرت انگیزمواد کے حصول کی کوشش کرتے ہوئےایک برطانوی ’انفلوئنسر‘ اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھا۔
سالہ برطانوی نوجوان ایک پل سےاس وقت گر کر ہلاک ہو گیا جہاں وہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر پوسٹ کرنے کے لیے تصویریں لینا چاہتا تھا۔ یہ واقعہ میڈرڈ سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پرپیش آیا۔
علاقے کی میونسپلٹی نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ انفلوئنسرکا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ وہ اپنے 24 سالہ ساتھی شہری کے ساتھ تھا جب وہ میڈرڈ کے جنوب مغرب میں تقریباً 110 کلومیٹر دور ’تلاویرا ڈی لا رینا سسپنشن‘ پل سے گرا۔
میونسپل پبلک سیفٹی اہلکار میکرینا میوز نے کہا کہ "ہمارے پاس موجود معلومات کے مطابق وہ پل پر چڑھنے اور سوشل میڈیا کے لیے مواد بنانے کے لیے تلاویرا آئے تھے، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک اور تباہ کن نتیجہ نکلا"۔
ہسپانوی پریس کے مطابق حادثے سے قبل تلاویرا پر ہونے والی شدید بارش نے پل پر بہت زیادہ پھسلن ہوگئی تھی۔
اپنے 152 دھاتی رسوں اور آس پاس کے دیہی علاقوں کے شاندار نظاروں کے ساتھ تلاویرا برج نے سالوں سے مہم جوئی اور سوشل میڈیا مواد تخلیق کرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ انفلوئنسر وہاں سے نظاروں کی تصویر کشی کرتے ہیں حالانکہ اس پر سرکاری طور پر پابندی ہے۔
میکروینا میوز نے کہا کہ "ہم نے بار بار دہرایا ہے کہ یہ کسی بھی حالت میں نہیں کیا جانا چاہئے"۔