کیا اسرائیل نے تہران سے انتقام لینے کی تاریخ کا تعین کر لیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

رواں ماہ کے آغاز سے دنیا سانس روکے اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ ایرانی میزائل حملے کے جواب میں اسرائیل کا کیسا رد عمل سامنے آتا ہے، تاہم تل ابیب نے ابھی تک صرف اتنا باور کرانے پر اکتفا کیا ہے کہ اس کی جوابی کارروائی بھرپور، مہلک اور حیران کن ہو گی۔

ادھر امریکی انتظامیہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ ایران کے اندر تیل اور جوہری پروگرام کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ ایسا کرنے کی صورت میں وسیع تر علاقائی جنگ بھڑک سکتی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم کے قریبی افراد نے نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ پہلے لبنان میں حزب اللہ کے خطرے سے نمٹ لیں پھر اس کے بعد ایران کے لیے خود کو فارغ کریں۔

نیتن یاہو کے ایک قریبی ذمے دار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی انتقامی کارروائی پانچ نومبر کو مقررہ امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے عمل میں آئے گی۔ یہ بات امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے بتائی۔ تاہم ذمے دار کے مطابق جوابی کارروائی سوچ سمجھ کر کی جائے گی تا کہ اس کے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے سے گریز کیا جا سکے۔

بالخصوص جب کہ اسرائیلی وزیر اعظم یہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی موجودگی کے ساتھ امریکی ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کی جیت کا مطلب مذاکرات کی میز پر جوہری معاہدے کی واپسی ہو سکتا ہے ، اور نیتن یاہو ایسا نہیں چاہتے۔

با خبر ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ جوابی کارروائی میں تیل کی تنصیبات یا جوہری تنصیبات نہیں بلکہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ تہران کی جانب سے یکم اکتوبر کے حملے کا اسرائیلی جواب مہلک، سخت اور حیران کن ہو گا جس کی کسی کو توقع نہیں ہو گی۔ یاد رہے کہ ایران نے مذکورہ حملے میں اسرائیل کی سمت 200 کے قریب میزائل داغے تھے۔

بعض اسرائیلی ذمے داران نے عندیہ دیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملے سمیت تمام راستے زیر غور ہیں۔ بعض کے نزدیک تہران میں ایرانی صدارتی کمپاؤنڈ اور رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے علاوہ پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب تہران نے تل ابیب کو خبردار کیا ہے کہ اس کی صلاحیت اور قدرت کا امتحان نہ لیا جائے۔ کئی ایرانی عہدے داران نے باور کرایا ہے کہ اس مرتبہ کسی بھی اسرائیلی حملے کا جواب زیادہ طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔ اسی طرح پاسداران انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ ہزاروں میزائل اسرائیل کی جانب داغے جانے کے لیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں