بنگلہ دیشی عدالت نے حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ حسینہ واجد جنہوں نے مسلسل کئی بار بنگلہ دیش کی وزیراعظم بننے کا اعزاز ٓحاصل کیا تھا۔ اپنی سخت گیری اور مخالف کشی کی پالیسی کی وجہ سے غیرمعمولی طور پر عوام میں ایک نفرت کی علامت بن کر رہ گئی ہیں۔

عوامی غم و غصے کے اظہار کی وجہ سے بالآخر عوامی لیگ کی اس وزیراعظم کو بھارت میں جا کر جلا وطنی اختیار کرنا پڑی اور آج کل وہ وہیں جلا وطنی کاٹ رہی ہیں۔

حسینہ واجد نہ صرف اپنے مخالف سیاسی رہنماؤں کو اندھا دھند پھانسیاں لگوانے اور جیلوں میں قید کر کے مار دینے کی شہرت کی حامل وزیراعظم رہیں۔ وہیں انہوں نے روزگار میرٹ پر مانگنے والے سینکڑوں بنگلہ دیشی نوجوانوں کو پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مروا دیا۔

یہیں سے ان کے اقتدار کا سورج غروب ہونا فطری بن گیا اور 5 اگست کو طلبہ کی تحریک کے نتیجے میں انہیں استعفیٰ دے کر ملک سے بھاگنا پڑا۔

اب بنگلہ دیشی عدالت نے ان کو کئی مقدمات میں جن میں انسانوں کی جانیں گئی ہیں گرفتار کرنے کے لیے ان کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ اگر انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا اور وہ گرفتاری میں تعاون نہیں کرتیں تو ہوسکتا ہے کہ انہیں اشتہاری اور مفرور بھی قرار دیے دیا جائے۔

ان کی پارٹی کے کئی رہنما، کابینہ کے ارکان اور ساتھی آج کل زیرحراست ہیں مگر حسینہ واجد ملک سے بھاگ جانے کی وجہ سے گرفتاری سے بچ گئی ہیں۔

عدالتی پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے عدالتی فیصلے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ' یہ تاریخی دن ہے۔ جب اس آمرانہ طرز حکومت کی حامل رہنے والی حسینہ واجد کے وارنٹ جاری کیے جا رہے ہیں اور ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے عوام منتطر ہیں۔

77 سالہ حسینہ واجد جو ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر فرار ہو کر ڈھاکہ سے دہلی پہنچی ہیں ، اب مودی سرکار کی میزبانی میں وقت کاٹ رہی ہیں۔ جبکہ ملک میں بڑے معیشت دان پروفیسر محمد یونس کی زیر قیادت حکومت قائم ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں