امریکی صدارتی انتخابات کے لیے دو امیدواروں، ڈیموکریٹ پارٹی کی کملا ہیرس اور ان کے ریپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ نے کل اتوار کو اپنی کوششیں ریاست پنسلوانیا پر مرکوز کیں۔ یہ سات سوئنگ ریاستوں میں سے سب سے بڑی ریاست ہے جوپانچ نومبر کے صدارتی انتخابات میں انتخابی نتائج کا فیصلہ کرے گی۔
ٹرمپ جو فاسٹ فوڈ کے شوقین تصور کیے جاتے ہیں سیاہ اور پیلے رنگ کا میک ڈونلڈ کا تہبند پہنے پنسلوانیا میں فوڈ چین کی شاخ کے کچن میں داخل ہوئے تاکہ کارکنوں کو فرنچ فرائز کرنےاور گاہکوں کو ان کے آرڈر پہنچانے میں مدد کی جا سکے۔
ریستوران کے ایک ملازم نے 78 سالہ ریپبلکن امیدوار کی مدد کی اور فرائز کڑاہی میں ڈالے۔ پھر انہیں کار سروس ونڈو کے ذریعے صارفین تک پہنچانے کے لیے ڈبوں میں رکھا جہاں میڈیا باہر تصاویر لینے کے لیے جمع تھا۔
جراثیم فوبیا کا شکار
ٹرمپ جوجراثیم فوبیا کا شکار ہیں نے فرنچ فرائز کی تقسیم کے لیے استعمال ہونے والے ٹول کو بہت پسند کیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ صاف ستھرا ہے، یہ واقعی عمدہ ہے۔ آپ کو کبھی بھی فرائز کو ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں ہے"۔
انہوں نےاپنی انتخابی مہم کے اختتام پر جس میں محنت کش طبقے کے ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی کے موقعے پر کہا کہ "میں اس تجربے کو کبھی نہیں بھولوں گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لیے تجربے کی ضرورت ہے۔ مجھے یہ کام کرنے میں کوئی عار نہیں ہے‘‘۔
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) October 20, 2024
جبکہ سابق صدر کے ہاتھ سے فاسٹ فوڈ وصول کرنے والے کئی صارفین نے حیرت کا اظہار کیا۔
ان میں سے کچھ نے ٹرمپ کو سلام کرتے ہوئے ان کے صدارتی الیکشن جیتنے کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
MAKE AMERICA GREAT AGAIN! pic.twitter.com/rA5FwAQWFy
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) October 20, 2024
جب نامہ نگاروں نے انہیں بتایا کہ اتوار کو ہیریس کی 60 ویں سالگرہ تھی تو ٹرمپ نے انہیں "سالگرہ " کی مبارکباد دی۔ انہوں نے مذاق میں کہا کہ "مجھے کملا کی سالگرہ پر پھول یا فرنچ فرائز پیش کرنے چاہئیں"۔
ٹرمپ نے ایسا کیوں کیا؟
ٹرمپ کے لیے اس مہم کے اسٹاپ کا مقصد اپنے حریف ہیرس کا مذاق اڑانا تھا، جن کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی جوانی میں میکڈونلڈز میں کام کرتی تھیں۔
تاہم ریپبلکن امیدوار نے ان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ ہیرس نے اپنی تعلیم کے دوران کبھی میک ڈونلڈز میں کام نہیں کیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس کے بارے میں اس نے اپنی مہم کے دوران بار بار بات کی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمر کا مسئلہ جس کی وجہ سے 81 سالہ جو بائیڈن صدارتی دوڑ سے دستبردار ہوئے ٹرمپ کے لیے بھی مسئلہ کھڑا کرسکتا ہے کیونکہ ان کی (78 سال کی عمر ان کے الیکشن کے نتائج پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
محنت کش طبقے کے ووٹوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا بھی ریپبلکن امیدوار کے لیے ایک چیلنج ہے، جس پر ان کے ڈیموکریٹک حریفوں کا الزام ہے کہ وہ دولت مند اور متمول طبقے کے فوائد کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔