ترکیہ : ڈاکٹروں اور نرسوں پر 47 نومولود بچوں کی ہلاکت پر مقدمہ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

استنبول کے پراسیکیوٹر نے 47 نومود بچوں کی ہلاکت کے الزام میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے خلاف مقدمے کا آغاز کر دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ان نومولود بچوں کے علاج میں منافع کے لالچ میں کوتاہی کا ارتکاب کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں 47 بچوں کی موت واقع ہو گئی۔

ان میں سے دس نومولود بچوں کی ہلاکت ترکیہ کے سب سے بڑے ہیلتھ سکینڈل کے طور پر حالیہ برسوں کے دوران سامنے آئی۔ اس طرح کے الزامات کے تحت ترکیہ کی وزارت صحت نے نو ہیلتھ سنٹر مکمل بند کر دیے ہیں۔ فرد جرم کے مطابق اس الزام کے تحت 19 مختلف ہیلتھ سنٹرز کے خلاف مقدمہ جاری ہے۔

مشتبہ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے نجی ہسپتالوں میں نومولد بچوں کی زندگیوں کے حوالے سے لاپرواہی کرتے ہوئے ان کی موت کا سامان کیا۔ نیز یہ کہ سوشل سیکیورٹی کے ادارے سے ان کے علاج کی رقومات بھی حاصل کیں۔ حتیٰ کہ بعض نے جعل سازی کرتے ہوئے جھوٹی دستاویزات کی بنیاد پر بھی سوشل سیکیورٹی کے محکمے سے پیسے بٹورے۔

ترکیہ کی اہم سیاسی جماعت 'سی ایچ پی' نے اس سلسلے میں پارلیمانی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر صحت کمال میمیسوگلو نے ان اطلاعات کے سامنے پر کہا ہے کہ نی وزارت ہسپتالوں اور ہیلتھ سنٹرز کی انسپیکشن کے امور کوہمیشہ کے مقابلے میی زیادہ سختی سے چیک کرے گی۔

بتایا گیا ہے کہ دو ملزمان ایمرجنسی فونز سننے کی ذمہ داری کی ادائیگی پر مامور تھے۔ ان تمام ملزمان کے خلاف 1399 صفحات پر مشتمل فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ فرد جرم استنبول کی عدالت میں پچھلے ہفتے عاید کی گئی ہے۔ کہ نومولود بچے ان ملزمان کے برے طبی علاج اور مبینہ مالی کرپشن کی وجہ سے منظم گروہ کا نشانہ بن گئے۔

ملزمان میں شامل دو ڈاکٹروں اور 11 نرسوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جان بجھ کر نومولود بچوں کو مخصوص ہسپتالوں میں نہیں بھیجا تھا۔ نیز یہ کہ ان بچوں کو ضروری طبی سہولت فراہم کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں