شمالی غزہ کے رہائشیوں کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے: یو این عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے خبردار کیا ہے کہ "شمالی غزہ کے تمام باشندوں کو جان سے مارنے کے خطرے کا سامنا ہے"۔ انہوں نےکہا کہ اسرائیلی فورسز "محصور" علاقے میں جو کچھ کر رہی ہیں اسے جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر جوائس مسویا نے بگڑتے ہوئے حالات کے بارے میں تازہ ترین وارننگ جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں پر بمباری کی گئی اور پناہ گاہوں کو آگ لگا دی گئی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ "خاندانوں کوبکھیر دیا گای ہے۔ مردوں اور بچوں کو ٹرکوں میں ڈال کرنامعلوم مقامات پر لے جایا جا رہا ہے"۔

صورتحال "تباہ کن" ہے

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہےکہ شمالی غزہ کی پٹی میں صورتحال "تباہ کن" ہے، جس میں "صحت کے اداروں کے اندر اور اس کے آس پاس شدید فوجی کارروائیاں ہو رہی ہیں"۔

انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر کہا کہ "شمالی غزہ کی صورتحال تباہ کن ہے۔ طبی سامان کی شدید قلت ہے۔ بہت محدود رسائی لوگوں کو اہم علاج سے محروم کر درہی ہے"۔

غزہ کے شمال میں جبالیہ مہاجر کیمپ کے کمال عدوان ہسپتال سے (رائٹرز سے آرکائیو)
غزہ کے شمال میں جبالیہ مہاجر کیمپ کے کمال عدوان ہسپتال سے (رائٹرز سے آرکائیو)

کمال عدوان ہسپتال

انہوں نے خاص طور پر کمال عدوان ہسپتال کا بھی حوالہ دیا جوشمالی غزہ میں آخری ہسپتال ہے جو جزوی طور پر کام کررہا ہے۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جمعہ کو اسرائیلی فوج نے اس ہسپتال پر حملہ کرکے وہاں سے دسیوں افراد جن میں زخمی، طبی عملے کے کارکن اور بے گھر شہری شامل ہیں کو گرفتار کرلیا تھا۔

ٹیڈروس نے مزید کہا کہ 44 مرد ملازمین کی گرفتاری کے بعد صرف ایک خاتون ملازم ہسپتال کے ڈائریکٹر، اور ایک ڈاکٹر تقریباً 200 مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے رہ گئے جنہیں فوری علاج کی ضرورت تھی"۔

انہوں نے کہا کہ "محاصرے کے دوران ہسپتالوں اور طبی سامان کو نقصان پہنچا یا تباہ ہونے کے بارے میں معلومات افسوسناک ہیں"۔

"بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی"

انہوں نے کہا کہ "غزہ میں صحت کا پورا نظام ایک سال سے زیادہ عرصے سے حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔سات اکتوبر 2023 کو جنگ کے آغاز کے بعد سے صحت کا نظام اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ "ہسپتالوں کو ہر وقت تنازعات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے"۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ ہسپتالوں کی سہولیات پر کوئی بھی حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

دو بچے جاں بحق

غزہ میں وزارت صحت نے بتایا کہ جمعے کو کمال عدوان ہسپتال پر حملے کے نتیجے میں دو بچے شہید ہوگئے۔ اسرائیلی فورسز پر ہسپتال کے عملے کے سینکڑوں ارکان، مریضوں اور بے گھر افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ ہسپتال پر حملے میں تین ڈاکٹراور ایک ملازم زخمی ہوئے، اس کے علاوہ اس کے اندر درجنوں ڈاکٹروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا گیا اس کی افواج ہسپتال کے ارد گرد سرگرم ہیں، لیکن واضح کیا کہ "ہسپتال کے علاقے میں کوئی گولی نہیں چلائی گئی اور نہ ہی کوئی حملہ کیا گیا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں