اسرائیل نے امریکی راہداری کے ذریعے ہم پر حملہ کیا:ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران پرامریکی راہ داریوں اورامریکی مدد سے حملہ کیا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف حال ہی میں ایران پراسرائیلی حملوں کے بعد تہران کی طرف سے تل ابیب کو جوابی حملے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

عباس عراقچی نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بیانات میں تصدیق کی کہ اسرائیلی طیاروں نے امریکہ کی رہ داری کے ذریعے حملے کیے تھے۔

قبل ازیں ایرانی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی طیارے ایران کی سرحدوں کے اندر نہیں آئے۔

اسسٹنٹ آرمی کمانڈربرائے رابطہ امور ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ صیہونی حکومت کے طیارے اپنی پیش قدمی کے باوجود ہماری سرحدوں میں داخل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کل شام شیراز سے اپنے بیانات میں مزید کہا کہ اسرائیلی طیاروں نے عراق کے حوالے سے "سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر دور امریکیوں کے زیر کنٹرول فضا سے میزائل داغنے شروع کیے ہیں"۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کے فضائی دفاع نے فوج اور پاسداران انقلاب کے فضائی دفاع کی کوشش کی بہ دولت بیشتراسرائیلی میزائلوں کو تباہ کردیا۔ بہت کم مقدار میں اسرائیلی میزائل ایران میں گرے۔

’انہوں نے غلطی کی اور ناکام رہے‘

حبیب اللہ سیاری نے اسرائیلیوں کو ایک پیغام بھیجا جس میں کہا گیا ہے کہ "اس تعداد میں جدید طیارے لانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ ہماری فضائی سرحدوں میں گھس سکتے ہیں"۔

ان کا کہا تھا کہ امریکہ کی قیادت میں بہت سے مغربی ممالک اسرائیل کی حمایت کرنے اور کامیاب فوجی آپریشن کرنے کے لیے آئے تھے لیکن انہوں نے غلطی کی اور ناکام رہے‘‘۔

’صحیح وقت اور جگہ پر‘

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اسرائیل کو ان کے ملک کی طرف سے حملوں کا جواب ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کیسے جواب دیتا ہے اس کا تعین سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کرے گی‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیلی حملہ ہماری سرحدوں پر واضح حملہ تھا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں