چند روز پیشتر اسرائیل کی طرف سے ایران کے اندر کیے گئے وسیع پیمانے پر فضائی حملوں میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔
اس حوالے سے کچھ مناظر سیٹلائٹس سے کے ذریعے بھی سامنے آئے ہیں۔ ان مناظرمیں ایران کے ایک اہم مرکز کو ہونے والے نقصات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے سے ممکنہ طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک اڈے کو نقصان پہنچا ہے، جو اپنے خلائی پروگرام کے حصے کے طور پر بیلسٹک میزائل تیار کرتا ہے اور میزائل داغتا ہے۔
شاہرود میں اڈے کو پہنچنے والے نقصان کے سیٹلائٹ مناظر منگل کے روز ایسوسی ایٹڈ پریس کی طرف سے شائع کیے گئے۔ سیٹلائٹ امیجز سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فضائی اڈے پر بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اور یہ مناظر ایران کے ان دعووں پر سوالیہ نشان چھوڑتے ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی حملوں سے خاطر خواہ نقصان نہیں ہوا۔
خاص طور پر چونکہ یہ مناظرایسے علاقے میں موجود اڈے کے ہیں جسے تہران نے پہلے تسلیم نہیں کیا تھا۔ پاسداران انقلاب نے ابھی تک اس حملے سے ہونے والے کسی ممکنہ نقصان پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔
جب کہ ایران نے سمنان صوبے کا ذکر کیے بغیر صرف ایلام، خوزستان اور تہران کے صوبوں میں اسرائیلی حملوں کی نشاندہی کی تھی۔
ایران نے اسرائیلی حملہ مسترد کر دیا
اس سے قبل ایران نے ہفتے کے روز اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے صرف محدود نقصان ہوا ہے۔ دوسری طرف ان حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اس کشیدگی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جس سے مشرق وسطیٰ میں ہر طرف سے جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج نے مزید کہا کہ ملک کے اندر فوجی اہداف پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والا نقصان صرف "ریڈار سسٹم" تک محدود تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے متعدد علاقوں میں فوجی ٹھکانوں پر کامیابی کے ساتھ درست حملے کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملوں سے تقریباً 20 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
چار فوجی ہلاک
قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی حملہ یکم اکتوبر کو ایران کی جانب سے میزائلوں کے داغے جانے کے بعد کیا گیا تھا اور اسرائیل نے کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاع نے ایران کے کئی میزائلوں کو مار گرایا ہے۔
حملوں کے بعد ایرانی فوج نے چار فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا اور ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے سے ایرانی جوہری اور تزویراتی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا کیونکہ فضائی دفاعی افواج جزوی طور پر حملے کو پسپا کرنے میں کامیاب رہی۔