اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے منگل کے روز ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے عیتا الشعب کے علاقے میں حزب اللہ کے کمانڈر 'حسن عقیل جواد' اور الرضوان فورس کے بعض ارکان کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان کے مطابق مذکورہ عناصر کے ساتھ تحقیقات کے نتیجے میں علاقے میں بہت سے اہداف کا انکشاف اور تباہی عمل میں آئی۔
ادرعی نے حسن عقیل کی تصویر بھی جاری کی ہے۔
دوسری جانب لبنانی تنظیم حزب اللہ نے کفرکلا اور یعقوصہ میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق شمالی اسرائیل میں سرحد کے نزدیک واقع بستیوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
منگل کی شام جنوبی لبنان میں صیدا شہر کے نزدیک واقع قصبے الصرفند پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 23 ستمبر سے بیروت کے جنوبی مضافات کے علاوہ جنوبی لبنان اور البقاع پر اپنے حملے شدید کر دیے۔
اسی طرح رواں ماہ کے آغاز پر لبنانی سرحد پر "محدود زمینی آپریشن" بھی شروع کر دیا۔ اسرائیلی فوج بعض لبنانی دیہات میں داخل ہو گئی۔ تاہم حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج کسی بھی قصبے یا گاؤں پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکی۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق 23 ستمبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے زیادہ ہو چکی ہے۔
اسرائیل اس وقت لبنانی سرحد پر بفر زون جیسا علاقہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے شمال کی سمت دھکیل دیا ہے۔ اس کا مقصد شمالی اسرائیل میں واقع بستیوں کے آباد کاروں کی واپسی ممکن بنانا ہے۔ یہ لوگ لبنان کی سمت سے ہونے والی راکٹ باری اور جھڑپوں کے سبب نقل مکانی کر گئے تھے۔