دینی مدرسے میں بچوں پر تشدد کی وڈیو ، ترکیہ میں غم و غصے کی لہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکیہ کے دار الحکومت انقرہ میں ایک دینی مدرسے کے اندر سی سی ٹی وی کے ریکارڈ شدہ مناظر نے اس طرح کے اسلامی مراکز اور اسکولوں پر تنقید کا دروازہ کھول دیا۔ یہاں بچوں کو صرف ہفتے کے آخر میں دو روز کی چھٹی میں گھر جانے کی اجازت ملتی ہے۔

حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک مقامی مدرسے کے اندر دینی افراد کی جانب سے بچوں کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسکول کا تعلق "اسماعيل آغا" تنظیم سے ہے جو صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کی جماعت "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ" کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ اس وڈیو نے ترکی میں عوامی حلقوں کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔

مذکورہ وڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد اس مدرسے کے طلبہ کی جانب سے ہول ناک انکشافات بھی سامنے آئے۔ اس پر سوشل میڈیا پر بعض ترکوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس تنظیم کے مدرسوں کی بندش کر کے ان کے تدریسی عملے کی سرزنش کی جائے۔

اس مدرسے کے دو بچوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ کتوں جیسا معاملہ کیا جاتا تھا۔ مدرسے کے اساتذہ ان دونوں کو ساتھی طلبہ کے ساتھ کھانے کے وقت، دینی علوم حاصل کرتے وقت اور نماز کے اوقات میں بھی مارا کرتے تھے۔ یہ بات معروف ویب سائٹT24 نے بتائی۔

ترک میڈیا نے "اسماعیل آغا" تنظیم کے مدرسوں کی اندرونی نگرانی کی ذمے دار تکنیکی ٹیم کو "بچوں پر تشدد کے شرم ناک واقعات" پر پردہ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تکنیکی ٹیم کے کئی افراد نے مدرسوں میں سیکورٹی کیمروں کے ریکارڈ سے ایسے مناظر کو حذف کر دیا جن میں چھوٹے بچوں پر تشدد ہوتے دیکھا جا سکتا تھا۔

مذکورہ مدرسے کے دیگر افشا ہو جانے والے وڈیو کلپوں سے کم از کم 20 بچوں پر تشدد کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جو پورے تعلیمی سال گھر نہیں گئے۔ اس لیے کہ ان کے گھر والے انقرہ سے باہر اور اس کے مضافات میں دور دراز مقامات پر رہتے ہیں۔

تشدد کے علاوہ "اسماعیل آغا" تنظیم کے مدارس پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے بچوں کے لیے آنے والے مالی عطیات تقسیم نہیں کیے۔ طلبہ کے گھرانوں نے اپنے بچوں کو کوئی بھی مالی عطیہ ملنے کی تردید کی۔

با خبر ترک ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ بچے مدرسے میں سزا کے خوف سے اپنے گھر والوں کو تشدد اور پٹائی کے بارے میں بتانے سے ڈرتے تھے۔

ابھی تک "اسماعیل آغا" تنظیم کے مدارس کی انتظامیہ کی جانب سے بچوں پر تشدد کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آٰیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں