امریکی صدارتی انتخابات ، عالمی منڈیوں میں ٹرمپ کی ممکنہ جیت کی آس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا میں صدارتی انتخابات اور کانگریس کے انتخابات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس دوران میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کے درمیان ٹکر کا مقابلہ جاری ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق ابھی تک ٹرمپ نے 267 ووٹ اور کملا نے 216 ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔

پوری دنیا کی تجارتی اور مالیاتی مارکیٹیں امریکی صدارتی دوڑ کے نتائج پر نظر جمائے ہوئے ہیں۔

اس دوران میں Neo Vision ویلتھ مینجمنٹ کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ریون لیمنڈ کے مطابق "اس وقت مارکیٹوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے "ٹرمپ ٹریڈ" کی واپسی کہہ سکتے ہیں یعنی حصص اور کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں بلندی کا رجحان ... یہ ٹرمپ کے کاروباری سیکٹر اور مالیاتی مارکیٹ کے پرستار کی حیثیت کا نتیجہ ہے"۔

ڈاکٹر لیمنڈ نے مزید کہا کہ انتخابی اعداد و شمار سے واضح ہو رہا ہے کہ غالبا ٹرمپ ہی منتخب صدر ہوں گے ، ہم انتخابی الیکٹورل میں 297 ووٹوں کے ساتھ کامیاب ان کی کامیابی کی توقع کر رہے ہیں۔ اس کے مقابل کملا ہیرس کو 241 ووٹ ملنے کی امید رکھتے ہیں"۔

امریکی انتخابات کے نتائج سے دنیا بھر میں اثاثوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یہ امریکی قرضوں اور ڈالر کی طاقت کے علاوہ مختلف صنعتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں جو امریکی کمپنیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

سرمایہ کاروں کو اس بات پر تشویش محسوس ہو رہی ہے کہ کوئی بھی غیر واضح یا متنازع نتیجہ تجارتی اور مالیاتی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

ریپبلکن کے زیر کنٹرول صدارت اور کانگریس کا نتیجہ ٹیکسوں میں کمی اور کاروبار کے لیے زیادہ سازگار قواعد و ضوابط کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

بعض سرمایہ کاروں نے اپنے ان اندیشوں کا اظہار بھی کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے زیر سایہ جامع کسٹم ڈیوٹیز ان کمپنیوں کو کمزور کر سکتی ہیں جو بڑی حد تک بیرونی مارکیٹوں سے درآمد شدہ سامان پر انحصار کرتی ہیں۔

مبصرین کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے نتیجے میں کسٹم ڈیوٹیز میں اضافے، ٹیکسوں میں کمی اور علاقائی بینکوں اور بٹ کوائن کرنسی سے متعلق ضوابط میں نرمی کا امکان ہے۔

دوسری جانب کملا ہیرس کی کامیابی کی صورت میں زیادہ سخت انتظامی ضوابط کے نفاذ، صاف توانائی کے لیے زیادہ حمایت اور دولت مند کمپنیوں اور افراد پر زیادہ بھاری ٹیکس لاگو ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں