بائیڈن کا پیچھے ہٹنے میں دیر کرنا پارٹی کو مہنگا پڑا: نینسی پیلوسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں کملا ہیریس کی شکست کے چند دن بعد ہاؤس کی سابق سپیکر نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب سے دستبرداری میں جو بائیڈن کی سست روی ڈیموکریٹس کو مہنگی پڑی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں پیلوسی نے مزید کہا کہ اگر صدر جلد استعفیٰ دے دیتے تو شاید اس دوڑ میں دوسرے امیدوار بھی ہوتے۔ توقع یہ تھی کہ اگر صدر جلد استعفیٰ دے دیتے تو پرائمری میں کھلا انتخاب ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ صدر بائیڈن کی جانب سے کملا ہیریس کی فوری توثیق نے اس وقت پرائمری کا انعقاد ناممکن بنا دیا تھا ۔ اگر یہ بہت پہلے ہوتا تو حالات مختلف ہوتے۔ اس وقت جب ڈیموکریٹس کملا ہیریس کی شکست اور ٹرمپ کی دوسری صدارت پر تلخ الزام تراشی میں مصروف ہیں پیلوسی کے یہ الفاظ دھماکہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔

امریکی صدر بائیڈن اور نینسی پیلوسی
امریکی صدر بائیڈن اور نینسی پیلوسی

نینسی پیلوسی نے بائیڈن انتظامیہ کی قانون سازی کی کامیابیوں کے دفاع کے لیے اپنی پوری کوشش کی۔ ان قانون سازیوں میں میں سے زیادہ تر ان کے پہلے دو سالوں کے دوران ہوئی تھیں جب جب وہ ایوان نمائندگان کی سپیکر تھیں۔ ریپبلکنز نے 2022 میں ایوان کا کنٹرول سنبھال لیا۔ نینسی پیلوسی جو اب 84 سال کی ہیں اس ہفتے 20ویں بار دو سال کی مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہوئی ہیں۔ بائیڈن کی عمر 78 سال تھی جب وہ 2020 میں منتخب ہوئے تھے اور اب وہ 82 سال کے قریب ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں