اسرائیل نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جج کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا دیا۔ فوجداری عدالت نے ججوں کا ایک پینل قائم کیا ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے جنگی جرائم کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
اسرائیل کی طرف سے جج پر اٹھائے گئے اس اعتراض کے نتیجے میں پہلے سے لٹکے ہوئے وارنٹ گرفتاری کے اس معاملے میں مزید لٹکاؤ آ سکتا ہے۔
خیال رہے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے ماہ مئی میں نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ علاوہ ازیں حماس کے تین رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری بھی عدالت سے مانگے تھے۔
تاہم ماہ مئی سے لے کر اب تک چھ ماہ کے دوران بھی یہ ممکن نہیں ہو سکا ہے کہ عدالت اس بارے میں کوئی فیصلہ کر سکے۔ کیونکہ اسرائیلی حکومت اس معاملے میں مختلف قسم کے اعتراضات کر رہی ہے اور درخواستیں پیش کر رہی ہے۔ تاکہ عدالتی عمل آگے نہ بڑھ سکے۔ حتیٰ کہ اسرائیل نے عدالت کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کیا ہے۔
پچھلے ماہ اس فوجداری عدالت کے ایک اہم رکن جن کا رومانیہ سے تعلق ہے اپنی صحت کو بنیاد بنا کر اس پینل سے رخصت لے لی تھی۔ جس کی وجہ سے پینل کی عدالتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور مزید لٹک گئیں ۔
اسرائیل کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق اسرائیل نے اس پینل میں شامل ایک خاتون جج کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا ہے ۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے اسرائیلی اٹارنی جنرل کے دفتر سے اس اعتراض پر مبنی دستاویز کو دیکھا ہے۔ جس میں اسرائیل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل مؤدبانہ درخواست کرتا ہے کہ جج بےٹی اوہلر کی غیر جانبداری کا معاملہ واضح نہیں ہے۔
اسرائیل کو فاضلہ جج کی پرانی ملازمت پر بھی اعتراض ہے۔ جو ان کی جانبداری کے معاملے کا اشارہ دیتے ہیں۔ جیسا کہ اس عدالت کے ججوں نے بھی یہ مانا ہے کہ 'او ٹی پی' میں کام کرتے ہوئے غیر جانبداری کا معاملہ کمزور ہو سکتا ہے۔
پراسیکیوٹر کریم خان نے ماہ مئی میں فوجداری عدالت کے سامنے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے لکھا کہ اس کے لیے معقول بنیادیں موجود ہیں کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ تاہم فوجداری عدالت نے ابھی تک کوئی واضح ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی ہے کہ وہ وارنٹ گرفتاری کب تک جاری کرے گی۔