وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور بائیڈن کی دو گھنٹے طویل ملاقات کی تفصیلات
امریکی صدر کے طور پر دوسری مرتبہ منتخب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں موجودہ صدر جو بائیڈن سے پہلی ملاقات کی۔
اس موقع پر دونوں شخصیات نے اقتدار کی پر امن منتقلی کا عہد کیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرین جین پیئر کے مطابق ملاقات تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہی۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ "یہ ملاقات اہم نوعیت کی رہی جس میں ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان قومی سلامتی اور داخلی پالیسی سے مربوط اہم معاملات زیر بحث آئے"۔
یوکرین جنگ
وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون نے صحافیوں کو بتایا کہ بائیڈن نے واضح کیا کہ یوکرین کی حمایت امریکا کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے کیوں کہ طاقت ور اور مستحکم یورپ ہی امریکا کو جنگ میں کھینچے جانے سے روک سکتا ہے۔ ملاقات کے دوران میں ٹرمپ نے روس اور یوکرین کی جنگ جلد ختم کرانے کا عہد کیا۔ تاہم انھوں نے اس کے طریقہ کار پر روشنی نہیں ڈالی۔
مشرق وسطیٰ
ٹرمپ نے امریکی اخبارNew York Post کو بتایا کہ انھوں نے ملاقات میں بائیڈن کے ساتھ مشرق وسطی کے بارے میں کافی بات چیت کی۔
ادھر ایک اور امریکی اخبار Washington Post کے مطابق ٹرمپ نے بتایا کہ "میں ہماری موجودہ حالت کے بارے میں ان (بائیڈن) کی آرا جاننا چاہتا تھا جس میں انھوں نے مجھے شریک کیا، وہ انتہائی شفیق رہے"۔
اقتدار کی آسان منتقلی
ملاقات میں بائیڈن نے ٹرمپ سے کہا کہ "ہم اپنے قول کے مطابق اقتدار کی آسان منتقلی کے خواہاں ہیں ... خوش آمدید ، ایک بار پھر خوش آمدید"۔
جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "سیاست ایک سخت چیز ہے، بسا اوقات یہ کوئی نرم دنیا ثابت نہیں ہوتی تاہم آج یہ ایک لطیف عالَم ہے، میں اس بات کو بہت سراہتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو اقتدار کی منتقلی آسان ہو ... جو".
خاتون اول کی جانب سے پیغام
خاتون اول جیل بائیڈن بھی ٹرمپ کی آمد پر ان کے استقبال میں شریک ہوئیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق جیل نے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک تہنیتی پیغام ٹرمپ کو دیا تا کہ وہ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کو پہنچا دیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بائیڈن (81 سالہ) اکثر ٹرمپ کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں جب کہ ٹرمپ (78 سالہ) بائیڈن کی تصویر ایک نا اہل کے طور پر کھینچتے رہے ہیں۔
کانگریس پر کنٹرول
امریکی میڈیا نے بدھ کے روز بتایا کہ ری پبلکنز نے ایوان نمائندگان میں اکثریت برقرار رکھی ہے۔ اس کا مقصد ٹرمپ کا اقتدار مضبوط بنانا اور ان کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔
امریکی چینلوں CNN اور NBC News کے مطابق ری پبلکنز نے 218 نشستیں حاصل کر لی ہیں اس طرح انھوں نے ایوان نمائندگان میں اکثریت برقرار رکھی ہے۔ اس سے قبل ری پبلکنز نے گذشتہ ہفتے سینیٹ میں ڈیموکریٹس سے اکثریت چھین لی تھی۔