ٹرمپ انتظامیہ میں صرف سمارٹ افراد کے لیے ملازمتوں سے متعلق مسک کا عجیب اعلان
ٹرمپ نے مسک اور بزنس مین وویک رامسوامی کو حکومتی کارکردگی کی وزارت دینے کا اعلان کیا ہے
امریکی بزنس مین ایلون مسک نے "انتہائی ذہین انقلابیوں" کے لیے نئی حکومت کی کارکردگی کی وزارت میں شامل ہونے کے لیے ملازمتوں کے ایک گروپ کا اعلان کیا ہے جس کی قیادت وہ امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کریں گے۔ پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘پر ایک متنازع اور عجیب و غریب پوسٹ میں مسک نے کہا کہ ہمیں ایک چھوٹی حکومت میں ایسے انتہائی ذہین انقلابیوں کی ضرورت ہے جو غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کے لیے ہفتے میں 80 گھنٹے سے زیادہ مفت کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ دلچسپی رکھتے ہیں تو اس اکاؤنٹ پر براہ راست پیغام کے ذریعے اپنا CV بھیجیں، سب سے اوپر آنے والے ایک فیصد درخواست دہندگان کا جائزہ امریکی کاروباری وویک رامسوامی لیں گے۔
واضح رہے مسک نے بیوروکریسی کو ایک تہائی تک کم کرنے اور امریکی حکومت کے اخراجات میں 2 ٹریلین ڈالر کم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے عارضی چیلنجز میں سے ایک قرار دیا ہے۔
حکومت کی کارکردگی
ایلون مسک نے کہا ہے کہ حکومت کی کارکردگی کی وزارت کی انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنانے کے لیے آن لائن شائع کیا جائے گا۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "X" پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد انہیں "حکومتی کارکردگی" سے متعلق ایک نئی وزارت کی قیادت کا کام سونپا جائے گا جس کا مشن اضافی افراد کو کم کرنا ہے۔ یا تو ہمیں ایک موثر حکومت بنانا ہوگی اور یا امریکہ دیوالیہ ہوجائے گا۔
کئی بڑی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں بہت سے لوگ پریشان ہوں گے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو حکومت کا استحصال کرتے ہیں۔ ۔ مجھے بہت زیادہ سکیورٹی کی ضرورت ہے لیکن یہ ہونا ضروری ہے، کیونکہ اگر ہم نے کام نہیں کیا تو ہم دیوالیہ ہو جائیں گے۔
یاد رہے مسک کی تقرری انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے بڑے اتحادی بننے کے بعد ہوئی تھی۔ مسک نے ریپبلکن صدر کی جیت میں مدد کے لیے 100 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے۔ تین دولت مند بزنس مین ٹرمپ، مسک اور رامسوامی اگر اتفاق کرتے ہیں تو وہ وفاقی حکومت کے بجٹ میں 2 ٹریلین ڈالر کی کٹوتی کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی حکومت کا بجٹ 6.5 سے لے کر 7 ٹریلین ڈالر کے درمیان ہے۔