سال 2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران میں اس وقت کی جرمن چانسلر انجیلا میرکل کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کسی طور بھی خوش گوار نہیں کہی جا سکتی۔
سابق جرمن چانسلر نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب "آزادی ... یادیں 1954-2021" (جو آئندہ ہفتے شائع جاری ہو گی) میں ٹرمپ سے اپنی پہلی ملاقات کا حال بیان کیا ہے۔ جرمن ہفت روزہ "Die Zeit" نے اس کتاب کے اقتباسات جاری کیے ہیں۔ میرکل کے مطابق وائٹ ہاؤس میں پہلی ملاقات کے آغاز پر انھوں نے ٹرمپ کو سمجھنے میں غلطی کی تھی جب میزبان صدر نے کیمروں کے سامنے مصافحے سے انکار کے ذریعے مہمان کی بے توقیری کی کوشش کی۔
اس موقع پر میرکل نے امریکی صدر کے کان میں سرگوشی کی کہ انھیں کیمروں کے سامنے مصافحہ کرنا چاہیے۔ تاہم پھر جلد ہی جرمن چانسلر جان گئیں کہ یہ حرکت بے ساختہ نہیں تھی بلکہ اس کا مقصد مہمان کو شرمندہ کرنا تھا۔ میرکل کے مطابق "وہ اپنی حرکت کو اچھی طرح جانتے تھے ، وہ لوگوں کو ایسا منظر پیش کرنا چاہتے تھے جس پر لوگ بات کر سکیں"۔
میرکل کے نزدیک "ان کی سب سے بڑی غلطی اس وقت امریکی صدر کے ساتھ نارمل طریقے سے پیش آنا تھا۔ بعد میں انھیں ادراک ہوا کہ یہ ایک سرکشی پسند کرنے والا شخص ہے"۔
میرکل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ "واشنگٹن سے برلن واپسی کی پرواز کے دوران میں وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ ٹرمپ ہر چیز کو اور ہر سیاسی مسئلے کو ایک کاروباری شخص کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اسے فائدے اور گھاٹے کے ترازو میں تولتے ہیں۔ ٹرمپ کے لیے تمام ملک ان کے ملک کے ساتھ مسابقت میں تھے"۔
سابق خاتون چانسلر کے مطابق ٹرمپ نے 2016 میں اپنی انتخابی مہم میں میرکل کو ہدف بنایا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 2015 اور 2016 میں دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کا استقبال کرنے سے میرکل نے جرمنی کو تباہ کر دیا۔ ٹرمپ نے برلن پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں پر انحصار کر رہا ہے اور نیٹو میں امریکی فوجی سرمایہ کاری سے مفت میں فائدہ اٹھا رہا ہے۔
میرکل کے اپنے منصب کو چھوڑنے کے تین برس بعد بھی ٹرمپ نے سابق جرمن چانسلر کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ اپنی حالیہ انتخابی مہم میں ری پبلکن صدارتی امیدوار نے پنسلوینیا میں خطاب میں کہا کہ "جرمن مجھے پسند نہیں کرتے ہیں کیوں کہ میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ کو ادائیگی کرنا ہو گی ... میں نے انجیلا سے کہا کہ انجیلا آپ نے ادائیگی نہیں کی"۔ ٹرمپ کا اشارہ نیٹو اتحاد کے اندردفاعی اخراجات کی طرف تھا۔
یاد رہے کہ انجیلا میرکل نے 2021 میں جرمن چانسلر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد سے انھوں نے اپنی ان یادداشتوں پر کام کیا جو آئندہ منگل کے روز کتابی شکل میں منظر عام پر آئیں گی۔ میرکل نے 16 برس اقتدار میں گزارے اور وہ یورپ کی ملکہ کے نام سے جانی گئیں۔