ہمیں سیاہ دن کا سامنا ہے بین الاقوامی فوجداری عدالت انسانیت کی دشمن بن چکی ہے : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے باور کرایا ہے کہ اسرائیل ان کی گرفتاری کے وارنٹ سے متعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت کا فیصلہ ہر گز تسلیم نہیں کرے گا۔

نیتن یاہو نے اسے 'سیاہ دن' قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بین الاقوامی عدالت "انسانیت کی دشمن" بن چکی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی فیصلہ انہیں "اسرائیل کے دفاع" سے ہر گز نہیں روک سکے گا۔ نیتن یاہو کے مطابق بین الاقوامی عدالت اسرائیل کے خلاف ہونے والے جنگی جرائم کو نظر کر رہی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ "بین الاقوامی فوجداری عدالت سیاسی طور پر سے مقابلہ کرنے کا آلہ بن کر اپنی قانونی حیثیت کھو چکی ہے ... اس نے بے بنیاد الزامات جاری کیے ہیں"۔

نیتن یاہو کے مطابق عدالت نے حماس کے جرائم کے مقابل کچھ نہیں کیا اور اس کا فیصلہ جمہوری ریاستوں کے خود کے دفاع کے حق کی پامالی ہے۔

انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم

اس سے قبل جمعرات کے روز ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بتایا کہ "اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ یہ وارنٹ انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے معاملات کی بنیاد پر جاری کیے گئے جن کا ارتکاب کم از کم آٹھ اکتوبر 2023 سے 20 مئی 2024 تک کیا گیا"۔ عدالت کے مطابق حماس کے عسکری ونگ عز الدین القسام بریگیڈز کے کمانڈر محمد الضیف کے خلاف بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیا گیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وارنٹوں کو "خفیہ" رکھا گیا ہے جس کا مقصد گواہان کو تحفظ فراہم کرنا اور تحقیقات کو یقینی بنانا ہے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے مئی 2024 میں عدالت سے درخواست کی تھی کہ نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ (سابق وزیر دفاع جنھیں اسرائیلی وزیر اعظم نے نومبر 2024 کے اوائل میں برطرف کر دیا تھا) کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں۔

کریم خان نے حماس کی قیادت کے خلاف بھی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کی تھی جن میں محد الضیف بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ الضیف یکم جولائی 2024 کو غزہ کے جنوب میں ایک حملے میں ہلاک ہو چکا ہے اگرچہ حماس الضیف کی موت کی تردید کرتی ہے۔

یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر غیر معمولی حملے کے نتیجے میں اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔ اس کارروائی میں اب تک کم از کم 44056 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

اسرائیل پر حماس کے مذکورہ حملے میں 1206 افراد مارے گئے تھے۔ حملے کے دوران میں 251 افراد کو قیدی بنا کر غزہ منتقل کر دیا گیا۔ ان میں 97 افراد ابھی تک غزہ کی پٹی میں موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج کا اندازہ ہے کہ بقیہ قیدیوں میں سے 34 افراد مر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں