افریقی قبائل جہاں بیویاں بھی میراث کا حصہ ہوتی ہیں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

براعظم افریقا کے مغرب میں بعض قبائل میں بیویاں بھی میراث میں منتقل ہوتی ہیں۔ انھیں شوہر سے طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد بھی سسرال چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ اس کا مقصد مال اور اولاد کا تحفظ ہے۔ یہ رواج ان قبائل میں سیکڑوں برس سے چلا آ رہا ہے۔

البتہ مطلقہ خواتین کے مقابلے میں بیواؤں کے ساتھ زیادہ خصوصی معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے کہ وہ گھرانے کے کفیل اور بچوں کے تربیت کار کو کھو چکی ہوتی ہیں۔ لہذا شوہر کے گھر والے ان کی کفالت کرتے ہیں اور اپنے کسی بیٹے پر زور دیتے ہیں کہ وہ بھائی کی بیوہ سے شادی کر لے تا کہ خاندانی مفادات اور فوت ہونے والے کے بچوں کا تحفظ ہو سکے۔

سماجی طور پر اس رواج کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر بیوہ ہو یا نیا شوہر، انھیں انعامات سے نوازا جاتا ہے کہ انھوں نے خاندانی مفادات کا تحفظ کیا۔

اگرچہ بعض افراد اس روایت کو خاندان کی بیویوں کو جائیداد کے طور پر وراثت میں دینے یا انھیں لونڈیوں کی طرح رکھنے کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم دیگر لوگ اسے خاندان کے مفادات کے تحفظ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ قدیم روایات میں مردوں کو اجازت تھی کہ وہ خاندان کے مردوں کی وفات کے بعد ان کی بیواؤں کو اپنے ساتھ رکھیں اور انہیں وراثت میں لیں، اس کا مقصد خاندان کی ملکیت اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا تھا۔

اس حوالے سے سماجی محقق ہارون با کہتے ہیں کہ "یہ پرانے رواج افریقا میں صحراء کے جنوب میں پھیلا ہوئے تھے۔ یہ ان معاشروں کی اقدار اور نظریات کے عکاس تھے جو خاندان کے تمام افراد اور اولاد سمیت گھرانے کے تحفظ کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ... جب کوئی مرد فوت ہو جاتا تھا تو اس کا بھائی یا چچا زاد بھائی اس کی تمام ذمے داریاں اور میراث لے لیتا تھا جس میں مرنے والے کا گھرانا بھی شامل ہوتا تھا۔ بعد ازاں یہ رواج میراث پر قبضے سے بدل کر خاندان کے مفاد عامہ کی صورت اختیار کر گیا جہاں بیوہ کی شادی مرنے والے کے بھائی سے کر دی جاتی ہے تا کہ مال ، جاہ اور بچوں کو تحفظ حاصل ہو جائے"۔

محقق نے باور کرایا کہ اس طرح کی روایات خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پامال کر سکتی ہیں اگر انھیں زبردستی یا دھمکا کر مسلط کیا جائے۔ اسی طرح یہ صحت، طرز زندگی، شادی اور فلاح و بہبود پر منفی طور اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر فریقین کی رضامندی سے معاملہ طے ہو تب بھی بعض مرتبہ مردوں کو ایسی شادی کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ مردوں کے غلبے والے معاشروں میں ایک مرد کے ساتھ کی ضرورت عورتوں کو اس طرح کی شادیاں قبول کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ بالخصوص جب کہ وسطی اور مغربی افریقا کے معاشروں میں کنواری عورتوں، مطلقہ عورتوں اور اکیلی ماؤں کے تناسب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں