فصلوں کی تباہی، بیماری کا پھیلاؤ، الجزائر میں خطرناک پرندے مینا کی کہانی کیا ہے؟
الجزائر کی ایک ماحولیاتی ایسوسی ایشن نے مینا پرندے کے پھیلاؤ کو دریافت کرنے کے بعد خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یہ پرندہ ماحولیاتی نظام اور انسانوں کے لیے خطرناک ہے۔ ایسوسی ایشن نے مانیٹرنگ اور فالو اپ سیل نصب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ الجزائر میں پرندوں کی افزائش کے فروغ کے لیے ایسوسی ایشن کے دفتر کے ایک رکن مصطفی عادل غریب نے وضاحت کی ہے کہ ایسوسی ایشن کے ایک ممبر نے دارالحکومت الجزائر میں مینا پرندے کی موجودگی دیکھی۔ اس سے قبل پڑوسی ممالک میں اس کے پھیلاؤ کو دیکھا گیا تھا۔
ترجمان نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایسوسی ایشن کے ایک رکن نے فیلڈ ٹرپ کے دوران ایک جوڑے کی موجودگی کو دیکھا اور ان کی تصاویر بھی لیں۔ جیسے ہی ہم نے اسے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر ہمارے صفحات پر شائع کیا تو مختلف متعلقہ محکموں نے ہم سے براہ راست رابطہ کیا اور انہوں نے فوری جواب دیا۔
مینا پرندے کے خطرے کے بارے میں عادل غریب نے بتایا کہ ہم نے پہلی بار الجزائر میں اس پرندے کی موجودگی کا پتہ چلایا ہے۔ یہ خاص طور پر زرعی فصلوں کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ اناج، پھل سبزیوں کو کھاتا ہے اور انہیں نقصان پہنچاتا ہے۔ اس طرح کسانوں کو بہت نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ ایک پرندہ ہے جو جنگلات پر حملہ کرتا ہے۔ اس پرندے کو عالمی ادارہ ماحولیات کی طرف سے دنیا کے تین خطرناک ترین پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ مینا پرندہ ہزاروں کے گروہوں میں حملہ کرتا ہے۔ ایک غیر ملک میں فلمائی گئی ایک ویڈیو کے مطابق اس کے گروہ میں شامل پرندوں کی کی تعداد 5000 تک پہنچ جاتی ہے۔
پرندوں کی افزائش کے لیے ایسوسی ایشن کے ایک رکن نے کئی تجاویز اور اقدامات تجویز کیے جو ان کے مطابق اس پرندے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اٹھائے جانے چاہئیں۔ ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ کاشتکار اس پرندے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اس کا علم ہونے پر اطلاع دیں۔ متعلقہ ایسوسی ایشنز اور محکموں نے اس پرندے کے لیے مانیٹرنگ اور فالو اپ سیل قائم کیا ہے۔