حلب آگ کی زد میں، جھڑپوں کے درمیان ناقابل بیان انسانی تکلیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حلب کے لوگوں کے مصائب اور خوف کا سلسلہ ان دنوں شامی فوج کے دستوں کے انخلا کے بعد زمینی سطح پر ہونے والی حالیہ پیش رفت کے ساتھ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ برسوں میں پہلی مرتبہ حلب میں اس قدر مصائب دیکھے گئے ہیں۔ ھیئہ تحریر الشام اور مسلح دھڑوں نے نے حلب پر کنٹرول کرلیا ہے اور شامی افواج جوابی کارروائی کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

العربیہ کے ذرائع نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ ان علاقوں میں انسانی صورت حال نمایاں طور پر ابتر ہو گئی ہے۔ شام کے تقریباً تمام علاقوں کی طرح حلب اور اس کے مضافات بجلی کی بندش کا شکار ہیں۔ خبروں کے مواد کی شدید قلت ہے۔ جب شہر کے مکین حالات کے مزید خراب ہونے کے خوف سے روٹی حاصل کرنے کے لیے جوق در جوق آ رہے ہیں۔

ایک مقامی رہائشی نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ حالیہ عرصے میں جھڑپوں اور خوف کی وجہ سے بیکریاں بند ہونے کے نتیجے میں روٹی کی شدید قلت دیکھی گئیہے۔ اس دوران رہائشیوں نے اپنے گھروں میں سامان کا سہارا لیا۔ کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو تندوروں پر ہجوم کرتے دکھایا گیا ہے۔

یہ اس شدید کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے جو گزشتہ پانچ دنوں کے دوران شامی فوج کے دستوں کے اچانک حملے کے بعد ان علاقوں میں دیکھی گئی تھی۔ اس صورت حال کا مشاہدہ ھیئہ تحریر الشام کے کنٹرول کے بعد حلب شہر پر برسوں میں پہلی بار ہوا ہے۔ یہ دھڑے ادلب اور حماۃ گورنری کے درجنوں شہروں اور دیہاتوں کے علاوہ حلب شہر اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور شامی فوج کے یونٹوں کو ان علاقوں سے نکال دیا ہے۔

اس کے نتیجے میں شامی فوج نے جوابی حملے کی تیاری شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس جنگ میں مرنے والوں کی تعداد 445 سے زائد ہو گئی۔ ایران اور روس دونوں نے صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دمشق کی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔ عراق نے بھی اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور کسی بھی حملے کو پسپا کرنے کے لیے اپنی تیاری کی تصدیق کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں