خرطوم: جمعہ کی نماز کے بعد مسجد پر فوج کی بمباری سے سات افراد ہلاک، متعدد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سوڈانی فوج کی شمالی خرطوم میں مسجد پر بمبارے سات شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا ہے۔ جمہوریت کے حامی وکیلوں کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کی کمیٹی کی تصدیق شدہ ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف سرگرم ایمرجنسی لایئرز کی رپورٹس کے مطابق مسجد پر بمباری اس وقت کی گئی جب نمازی ادائیگی جمعہ کے بعد مسجد سے نکل رہے تھے۔ یہ وکلا پچھلے 19 مہینوں پر محیط اس خانہ جنگی کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ لڑائی ملک کی باقاعدہ فوج اور پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان لڑی جارہی ہے۔

مقامی مزاحمتی کمیٹی جو سینکڑوں رضاکار گروپوں میں سے ایک گروپ ہے اور جنگ کی فرنٹ لائن پر پورے سوڈان میں خدمات انجام دے رہی ہے کے مطابق ان سات ہلاکتوں کے علاوہ بھی کئی زخمی بھی ہسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔

وکلاء نے اپنے مذمتی بیان میں اس مسجد پر اس بمباری کو انسانیت کے خلاف جرم اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ فوج کی طرف سے کیے گئے ان حملوں میں شامل تھا جو پوری منصوبہ بندی سے کیے گئے۔

ایسے حملے شہریوں اور لڑنے والوں کے درمیان فرق نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد صرف ہلاکتیں کرنا ہوتا ہے۔ خیال رہے فوج اور آر ایس ایف دونوں پر اس طرح کے عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور رہائشی علاقوں پر اندھا دھند گولہ باری کا الزام لگایا جاتا ہے۔ جمعہ کے روز کیا گیا حملہ خرطوم کے شمال میں ایک مسجد پر کیا گیا۔

یہ علاقہ اپریل 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے مسلسل 'ار ایس ایف' کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ اب تک اس خانہ جنگی میں دسیوں ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں اور 80 لاکھ سے زیادہ اندرونی طور پر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ دنیا کی سب سے بڑی نقل مکانی ہے۔ جبکہ مزید 30 لاکھ بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں