بائیڈن انتظامیہ کی شام میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر، داعش کی واپسی کے خطرات پرتشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

وائٹ ہاؤس نے اتوار کو اعلان کیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی ٹیم "شام میں ہونے والے غیر معمولی واقعات" پر نظر رکھے ہوئے ہے اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ شام میں امریکہ کی موجودہ ترجیحات اس بات کو یقینی بنانا ہیں کہ موجودہ تنازعہ داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کی حوصلہ افزائی نہ کرے یا انسانی تباہی کا باعث نہ بنے۔

قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ تنازعے کا دائرہ پھیلنے پر "تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام کو ایک مستحکم حکومت کی ضرورت ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ داعش کا دوبارہ سرگرم ہونے خطرات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طویل شامی خانہ جنگی کے "بدترین مراحل کے دوران" ہم نے منظرعام پر ’داعش‘ کے ابھرتے ہوئے دیکھا"۔ انہوں نے کیلیفورنیا کی سمی ویلی میں ریگن نیشنل ڈیفنس فورم کے زیر انتظام ایک کانفرنس میں مزید کہا کہ انہوں نے شام کی صورت حال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے‘‘۔

سلیوان نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ شام میں لڑائی داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کا باعث نہ بنے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم خود اقدامات کریں گے۔ براہ راست اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ داعش دوبارہ نہیں ابھرے گی‘‘۔

خیال رہے کہ امریکہ کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج اتوار کے روز شام میں اپوزیشن نے بشارالاسد کے چوبیس سالہ اقتدار کا خاتمہ کردیا ہے۔ شامی حکومت فی الحال وزیراعظم محمد غازی الجلالی نے سنبھال لی ہے۔

سلیوان نے کہا کہ سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ امریکی اتحادی اور خطے میں وہ ممالک جنہیں "شام کے بالواسطہ نتائج کا سامنا ہے" ایک "مضبوط اور محفوظ" پوزیشن میں رہیں۔ ہم ان کے ساتھ رابطے میں ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں