آسٹریلیا : اسرائیل مخالفت کا چند دنوں میں دوسرا واقعہ، گاڑی نذر آتش، دیواروں پر چاکنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

آسٹریلیا کے علاقے 'نیو ساؤتھ ویلز' کی پولیس نے کہا ہے کہ ایک گاڑی کو آگ لگا دی گئی اور ایک مکان کی دیوار پر اسرائیل مخالف نعرہ لکھا ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد ریاستی پولیس نے رپورٹ کیا ہے کہ دو افراد سیاہ لباس پہنے ہوئے تھے جنہیں اس نفرت انگیز جرم کے بعد علاقے میں دیکھا گیا۔ انہوں نے اپنے چہروں کو ڈھانپ کر رکھا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ وولہرہ میں پیش آیا جہاں گاڑی کو آگ لگائی گئی۔ پولیس کے نیو ساؤتھ ویلز کے سربراہ کرس منز نے کہا ہے کہ یہ واقعہ توڑ پھوڑ کی ایک غیر قانونی حرکت ہے اور اس کی سزا 10 سال تک ہو سکتی ہے۔

پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو میں نہیں سمجھتا 'شوگر کوٹڈ' بنا کر پیش کرنا چاہیے یا اس کی اہمیت کم کرنی کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ایسا عمل نہیں ہے جو اچانک اور بغیر کسی ترتیب یا منصوبے کے ہو گیا ہو۔ یہ واقعہ نفرت پھیلانے کے لیے کیا گیا ہے۔

واضح رہے اسرائیل کی غزہ جنگ جس میں اب تک اسرائیلی فوج نے 70 فیصد بچوں اور عورتوں کے ساتھ 44786 فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ اس قتل عام نے اسرائیل کے خلاف یورپ و امریکہ سمیت پوری دنیا میں ایک سخت ردعمل پیدا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیلی جنگ کے خلاف جگہ جگہ احتجاج کے مناظر دیکھے جا چکے ہیں۔ آسٹریلیا میں بھی یہ واقعہ اسرائیلی غزہ جنگ کے خلاف ردعمل میں ہونے والے واقعات کا ایک تسلسل نظر آتا ہے۔

تاہم آسٹریلیا کے حکام کے لیے پریشانی کی زیادہ بات یہ ہے کہ یہ اسرائیل کے خلاف تین ہفتوں کے دوران دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے سڈنی کے مضافاتی علاقے میں یہودیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

بدقسمتی سے یورپ، امریکہ اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں جس طرح پہلے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا اب بعض جگہوں پر یہودیوں کو بھی ٹارگٹ کیا جانے لگا ہے۔ اس صورتحال نے دنیا کے کئی ملکوں کی حکومتوں کو پریشان کر دیا ہے۔

آسٹریلیا میں تین ہفتوں میں پیش آنے والے اس دوسرے واقعے کے بارے میں انتھونی البانی نے کہا ' یہ ایک غصہ تھا اور اس بارے میں جلد ہی یہود دشمنی سے متعلق ٹاسک فورس ایک بریفنگ دے گی۔'

البانی 'اے بی سی' ریڈیو سے گفتگو کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا 'یہ واقعہ اس لیے ہوا کہ نشانہ یہودی لوگ تھے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ نفرت انگیز جرم ہے۔ آسٹریلیا اس لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ بیرون ملک کے تنازعے کو یہاں لے آئیں یا یہاں کے تنازعے کو باہر لے جائیں۔'

آسٹریلیا کی یہودی ایسوسی ایشن نے بدھ کے روز کہا اس نے حکومت کو کئی خبردار کیا کہ ایسے واقعات ہو سکتے ہیں لیکن حکومت نے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے بلکہ نظر انداز کیا گیا۔

یہودی تنظیم نے دھمکی آمیز لہجے میں 'ایکس' پر لکھا 'اگر آسٹریلیا کی حکومت شہریوں کا تحفظ نہیں کر سکتی تو اسے گھر چلے جانا چاہیے اور کسی اور کو یہ کام کرنے دینا چاہیے۔'

اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھی سڈنی کے قریب عبادت گاہ کے سامنے تخریبی کوشش کے واقعے کی مذمت کر چکے ہیں۔ جو اسرائیل کی غزہ جنگ کے خلاف ردعمل کے سلسلے میں سامنے آیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں