شام میں الاسد کا تختہ الٹنا امریکی-اسرائیلی منصوبے کا نتیجہ تھا: خامنہ ای

الاسد کے زوال سے ایرانی "محورِ مزاحمت" کی طاقت اور رسوخ میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے قائدِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے بدھ کے روز کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنا امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے کا نتیجہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ شام کے ہمسایوں میں سے بھی ایک کا کردار تھا۔ انہوں نے ملک کا نام نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ ترکیہ کی جانب تھا جس نے شامی حزبِ اختلاف کی حمایت کی ہے۔

الاسد کی معزولی کو بڑے پیمانے پر ایران کے زیرِ قیادت "محورِ مزاحمت" سیاسی اور فوجی اتحاد کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے جو شرقِ اوسط میں اسرائیل اور امریکی اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

خامنہ ای نے ایران کے سرکاری میڈیا کی طرف سے رپورٹ کردہ ایک تقریر میں کہا، "شام میں جو کچھ ہوا اس کی منصوبہ بندی بنیادی طور پر امریکہ اور اسرائیل کے کمانڈ رومز میں کی گئی۔ ہمارے پاس اس کے ثبوت موجود ہیں۔ شام کی ایک ہمسایہ حکومت بھی اس میں ملوث تھی۔"

انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک کا "واضح کردار تھا اور وہ ایسا کرتا رہے گا۔"

نیٹو کا رکن ترکیہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے الاسد کی معزولی کے لیے مخالف گروپوں کا ایک اہم حمایتی رہا ہے۔ شامی کرد وائی پی جی ملیشیا کے خلاف سرحد پار سے ہونے والی متعدد دراندازیوں کے بعد ترکی شمالی شام میں وسیع رقبے پر قابض ہے۔

ایران نے جنگ کے دوران الاسد کی حمایت میں اربوں ڈالر خرچ کیے اور اپنے اتحادی کو اقتدار میں رکھنے کے لیے اپنے پاسدارانِ انقلاب کے ارکان کو شام میں تعینات کیا۔

الاسد کے زوال کے چند گھنٹے بعد ایران نے دونوں ممالک کے "دور اندیش اور دانشمندانہ نقطۂ نظر" کی بنیاد پر دمشق کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی توقع ظاہر کی تھی اور شامی معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندگی کرنے والی ایک جامع حکومت کے قیام پر زور دیا۔

اپنی تقریر میں خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ ایران کی قیادت میں اتحاد پورے خطے میں مزید مضبوط ہو گا۔

انہوں نے کہا، "آپ جتنا زیادہ دباؤ ڈالیں گے، مزاحمت اتنی ہی مضبوط ہوتی جائے گی۔ آپ جتنے زیادہ جرائم کرتے ہیں، اتنا ہی پرعزم ہوتا جاتا ہے۔ آپ جتنا زیادہ اس کے خلاف لڑیں گے، اتنا ہی یہ پھیلتا جائے گا۔"

انہوں نے کہا، "ایران مضبوط اور طاقتور ہے اور مزید مضبوط ہو گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں