کریملن نے امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے روسی سرزمین پر یوکرین سے میزائل فائر کرنے کی مخالفت پر اپنے رد عمل میں کہا ہے ٹرمپ کا یہ موقف ماسکو کے مؤقف سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ یاد رہے ٹرمپ نے امریکہ کے فراہم کردہ میزائلوں کے روس کے اندر فائر کرنے پر یوکرین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
نو منتخب امریکی صدر نے ان خیالات کا اظہار ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں کیا ۔ جسے جمعرات کے روز شائع کیا گیا۔ ٹرمپ کے ان خیالات کا ماسکو نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں خیر مقدم کیا ہے۔
واضح رہے ماسکو کے ایک توانائی مرکز پر حملے کے جواب میں روس کے اندر روسی ایئر فیلڈ کو امریکی ہتھیاروں سے نشانہ بنایا تھا۔
اب ٹرمپ کے بیان کی تعریف کرتے ہوئے ماسکو نے کہا ہے 'نومنتخب صدر کا بیان ہماری پوزیشن کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے، اس لیے ہمیں متاثر کرتا ہے۔'
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعہ کے روز نامہ نگاروں کو بتایا ' ٹرمپ واضح طور پر اور بخوبی سمجھتے ہیں کہ صورتحال کس طرف بڑھ رہی ہے۔' ٹرمپ نے ٹائم میگزین کو انٹرویو کے دوران کہا تھا ’میں روس میں سینکڑوں میل اندر میزائل فائر کرنے سے شدید اختلاف کرتا ہوں۔ ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ میرے خیال میں یہ ایک احمقانہ حرکت ہے۔'
روس بارہا یوکرین کو مغربی ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف برہمی کا اظہار کرچکا ہے۔ اس کا مؤقف ہے مغربی ملکوں کے ہتھیاروں کا روس کے خلاف استعمال نیٹو ممالک کو تقریباً تین برسوں سے جاری تنازع میں براہ راست شریک ظاہر کرتا ہے۔
نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران دعویٰ کیا تھا وہ 24 گھنٹوں میں لڑائی ختم کرنے کے لیے معاہدہ کر سکتے ہیں اور جنوری میں ان کے حلف سے پہلے ممکنہ جنگ بندی پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
تاہم کریملن کی طرف سے جمعے کے روز کہا گیا ہے یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ابھی اس کی ضرورت پوری نہیں ہوئی۔ روسی ترجمان نے صحافیوں سے واضح طور پر کہا' ہم جنگ بندی نہیں چاہتے، ہم امن چاہتے ہیں، جب ہماری شرائط اور ہمارے تمام اہداف پورے ہو جائیں گے تو ہم امن کی حمایت کریں گے۔ نیز یہ کہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے جو لوازمات لازمی ہیں وہ ابھی دستیاب نہیں ۔'
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ انٹرویو 27 نومبر کو' تھینکس گیونگ' تعطیل اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات سے پہلے دیا تھا۔ یہ ملاقات فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کی کوشش سے ہوئی تھی۔
-
ٹرمپ : امریکی میزائلوں سے روسی سرزمین پر یوکرینی حملوں پر تنقید ،پالیسی تبدیل کرنے کاعندیہ
امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین پر سخت تنقید کی ہے ۔ یہ تنقید کسی امریکی ...
بين الاقوامى -
"موت کی سودا گری" حوثی ملیشیا نے یوکرین میں لڑنے کے لیے یمنیوں کا استحصال کیسے کیا؟
انسانی حقوق کی تنظیم ’سام‘ آرگنائزیشن فار رائٹس اینڈ لبرٹیز کی ایک رپورٹ میں ...
بين الاقوامى -
"گاجر اور چھڑی"، یوکرین کے حوالے سے ٹرمپ کے امن منصوبے میں کیا ہے؟
’نومنتخب صدر نے کہا ہے کہ وہ "امن کی بحالی اور عالمی سطح پر امریکی طاقت اور ڈیٹرنس ...
بين الاقوامى