سعودی عرب نے طالب عبدالمحسن کی سعودی واپسی کا جرمنی سے مطالبہ کیا تھا : حکومتی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب نے جرمنی میں گاڑی چڑھا کر شہریوں کو کچلنے والے ملزم کے سلسلے میں جرمنی سے مطالبہ کیا تھا کہ اسے سعودی عرب کے حوالے کیا جائے۔ یہ بات پیر کے روز سرکاری ذرائع نے 'اے ایف پی' کو بتائی ہے۔

ملزم نے پچھلے دنوں کرسمس مارکیٹ کے قریب ایک بڑے ہجوم پر اپنی گاڑی چڑھا کر پانچ افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا تھا۔ جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ذرائع نے خبر رساں ادارے کو پیر کے روز بتایا 'ہم جرمنی سے پہلے ہی اس ملزم کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکے تھے۔ تاہم ریاض کی طرف سے اس موقع پر کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔'

یہ بھی کہا گیا کہ ریاض نے جرمنی کو پہلے ہی اس ملزم کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ خطرناک ہے۔ جو جمعہ کے روز پیش آنے والے واقعے سے ثابت ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے جرمنی کو کئی بار طالب جواد عبد المحسن نامی اس ملزم کے بارے میں آگاہ کیا تھا کہ یہ کوئی تخریبی کارروائی کر سکتا ہے۔

واضح رہے 50 سالہ طالب عبد المحسن ایک سائیکٹریسٹ ہے جو آن لائن قتل کی دھمکیاں دے چکا ہے، قانون کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے اور سعودی خواتین کو اپنےملک فرار ہونے میں مدد دے چکا ہے۔

وہ سوشل میڈیا پر اپنے آپ کو ایک مظلوم کے طور پر پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ جرمنی میں اسلام کا نفاذ کرنا چاہتا ہے۔

طالب عبدالمحسن 2006 میں جرمنی آیا تھا۔ جسے 10 سال بعد ایک پناہ گزین کا درجہ دیا گیا۔ وہ اس سے پہلے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے حق میں کام کرنے والے ایک کارکن کےطور پر مشہور رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں