اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کی ٹرمپ سے فلوریڈا کی رہائش گاہ میں ملاقات

تہران میں زیرِ حراست ایک اطالوی صحافی کے بارے میں بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی ہفتے کے روز نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے فلوریڈا پہنچیں۔ اہم یورپی رہنما 20 جنوری کو ٹرمپ کے کرسی صدارت سنبھالنے سے قبل ان سے تعلقات مضبوط کرنے کی خواہاں ہیں۔

سوشل میڈیا پر نامہ نگاروں اور دیگر افراد کی پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے مطابق منتخب صدر کی طرف سے میلونی کے تعارف کے بعد مار-اے-لاگو ریزورٹ کے اراکین نے میلونی کا استقبال کیا۔

وہ جمعرات سے 12 جنوری تک روم کے دورے کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کرنے والی ہیں اور ٹرمپ سے ان کی یہ ملاقات اس سے کچھ دن پہلے ہوئی ہے۔ ٹرمپ نومبر کے انتخابات میں بائیڈن کو شکست دینے کے بعد وائٹ ہاؤس واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔

اگرچہ ان کی ملاقات کی کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں لیکن اطالوی میڈیا کے مطابق میلونی نے ٹرمپ سے یوکرین میں روس کی جنگ، تجارتی مسائل، شرقِ اوسط اور تہران میں زیرِ حراست ایک اطالوی صحافی کے بارے میں بات کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

میلونی کے دفتر نے میڈیا کی اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اپنی قدامت پسندانہ اسناد اور اٹلی میں ان کی سربراہی میں دائیں بازو کے اتحاد کے استحکام کے باعث انہیں ممکنہ طور پر ٹرمپ کی مضبوط شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے ارب پتی سربراہ ایلون مسک سے بھی قریبی تعلقات استوار کیے ہیں جنہوں نے الیکشن جیتنے میں ٹرمپ کی مدد کے لیے چوتھائی بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔

ایک میڈیا پول رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے مار-ا-لاگو کے ہجوم کو بتایا، "یہ بہت پرجوش ہے۔ میں یہاں اٹلی کی وزیرِ اعظم اور ایک لاجواب خاتون کے ساتھ ہوں۔ انہوں نے واقعی یورپ میں بڑی اور تیز رفتار کامیابی حاصل کی ہے۔"

اس کے بعد ٹرمپ اور میلونی ایک دستاویزی فلم دیکھنے کے لیے بیٹھ گئے جو ٹرمپ کے سابق وکیل جان ایسٹ مین کو درپیش مجرمانہ تحقیقات اور قانونی تفتیش سے متعلق تھی۔ وہ 2020 میں ٹرمپ کی انتخابی شکست کو پلٹنے کی ناکام کوششوں کا مرکز تھے۔

میلونی کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک 19 دسمبر کو ایران میں اطالوی صحافی سیسیلیا سالا کی گرفتاری ہے۔

ایک ایرانی تاجر محمد عابدینی کو مبینہ طور پر ڈرون کے پرزہ جات فراہم کرنے کے الزام میں امریکی وارنٹ پر میلان کے مالپینسا ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا تھا جس کے تین دن بعد سالا کو حراست میں لیا گیا۔ ڈرون کے پرزہ جات کے بارے میں واشنگٹن نے کہا کہ یہ 2023 کے ایک حملے میں استعمال کیے گئے جس میں اردن میں تین امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جمعہ کو ایران کی وزارتِ خارجہ نے عابدینی کی حراست پر اٹلی کے سفیر کو طلب کیا۔

میلونی ان مٹھی بھر غیر ملکی رہنماؤں میں تازہ ترین اضافہ ہیں جنہوں نے پانچ نومبر کے انتخابات کے بعد سے فلوریڈا میں ٹرمپ سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے ارجنٹائن کے صدر جیویر میلی، ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان اور کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو سے ملاقاتیں کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں