یمن سے داغے میزائل کو روکنے کی کارروائی میں اسرائیل دھماکوں سے لرز اٹھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کی پٹی میں شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں ایک سال سے زائد عرصے سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کے دوران اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے مختلف ٹھکانوں پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، مگر صورت حال جوں کی توں ہے۔

تل ابیب پر میزائل حملے کے دوران دھماکے

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز یمن سے داغے گئے میزائل کو روکنے کی تصدیق کی ہے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے مزید کہا کہ میزائل کو روکنے کی کوششوں کے نتیجے میں وسطی اسرائیل میں دھماکے ہوئے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ میزائل حملے کے بعد تل ابیب کے شمال میں بالخصوص حضیرہ اور دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں خطرے کےسائرن بجائے گئے۔

یہ پیش رفت حوثی گروپ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہےجس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے اسرائیل پر دو الگ الگ حملے کیے ہیں۔ پہلا حملہ ہائیپرسونک بیلسٹک میزائل سے یافا کے علاقے کے مشرق میں پاور اسٹیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا۔

گروپ کے ترجمان یحییٰ سریع نے ہفتے کی صبح کو بتایا کہ دوسری کارروائی ایک ڈرون کے ذریعے کی گئی جس میں یافا میں ایک فوجی ہدف کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج نے اطلاع دی ہے کہ اس نے یمن سے داغے گئے ایک ڈرون کو مار گرایا۔

فوج نے مزید کہا کہ ڈرون کو اسرائیلی فضائی حدود سے گذرنے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔

اس سے قبل جمعے کی صبح العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے یمن سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو روکنے کی کوششوں کے نتیجے میں یروشلم کے قرب و جوار میں دھماکوں کی آواز کی اطلاع دی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میزائل کے کچھ ٹکڑے یروشلم کے قریب مودیعین کے علاقے میں گرے۔

قابل ذکر ہے کہ کئی مہینوں سے ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ وہ اسرائیل کی دھمکیوں کے باوجود غزہ کی پٹی پر جنگ بند ہونے تک اسرائیل کا مقابلہ جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں