کانگریس میں ٹرمپ توثیق سے قبل بائیڈن کا چار سال قبل کیپیٹل ہل پر دھاوے کا تذکرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ 6 جنوری 2021ء کے واقعات جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے چار سال قبل کیپیٹل پر دھاوا بولا تھا، انہیں فراموش یا دہرایا نہیں جانا چاہیے۔

انہوں نے اتوار کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں یہ دکھاوا کرنا چاہیے کہ ایسا نہیں ہوا‘‘۔

سنہ 2020ء کے انتخابات میں بائیڈن سے صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد ٹرمپ نے کانگریس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بائیڈن کی جیت کی تصدیق کو روکے اور یہ دعویٰ کیا کہ وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی ان کی شکست کا باعث بنی۔

ٹرمپ کے حامیوں نے بعد میں کیپیٹل کی عمارت پر دھاوا بول دیا اور بائیڈن کی جیت کی تصدیق کے عمل میں رکاوٹ ڈالی، جسے اگلی صبح تک موخر کر دیا گیا۔

بائیڈن نے اتوار کو مزید کہا کہ "مجھے یقین ہے کہ اس نے جو کیا وہ جمہوریت کے لیے حقیقی خطرہ تھا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں پر امید ہوں کہ ہم نے اس پر قابو پا لیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ دہرایا نہیں جانا چاہئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اسے فراموش کیا جانا چاہئے"۔ بائیڈن نے اقتدار کی "ہموار منتقلی" کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششوں پر زور دیا۔

بائیڈن نے زور دے کر کہا کہ ہمیں اقتدار کی "فطری" منتقلی کے اصولوں پر واپس آنا چاہیے۔

سنہ 2020ء کے انتخابات کے برعکس بائیڈن نے فوری طور پر ٹرمپ کی انتخابی فتح کو تسلیم کیا اور انہیں اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے اپنی وابستگی ظاہر کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں