حماس تحریک سے وابستہ غزہ کی وزارت داخلہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے نافذ العمل ہوتے ہی اس کے ارکان پوری پٹی میں تعینات ہوجائیں گے۔ اس بیان پر تحریک فتح نے ردعمل کا اظہار کردیا ہے۔ الفتح کے ترجمان عبدالفتاح دولہ نے ہفتے کے روز العربیہ کو دیے گئے بیانات میں واضح کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں واپس جانا چاہیے اور اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس کا غزہ کی پٹی میں اپنے ارکان کی تعیناتی کا اعلان فلسطینیوں کے مفادات کی پروا کیے بغیر اپنے مفادات پر قائم رہنے کی خواہش کی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی دھڑا اکیلے غزہ کی پٹی پر حکومت نہیں کر سکتا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حماس کی وزارت داخلہ نے ہفتہ کے اوائل میں ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے ارکان کو غزہ کی پٹی کے تمام گورنریٹس میں جنگ بندی کے آغاز کے فوراً بعد تعینات کردے گی۔ حماس نے ساتھ ہی فلسطینیوں سے تعاون کی اپیل بھی کی تھی۔ جمعہ کو فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کی پٹی میں اپنی مکمل ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاست اور اس کے اداروں کا غزہ پر قانونی اور سیاسی دائرہ اختیار ایسا ہی ہے جیسا مغربی کنارے اور مشرقی القدس اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین کے باقی حصوں پر ہے۔
یاد رہے یہ ابہام اب بھی موجود ہے کہ امریکی، مصری اور قطری سرپرستی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان کئی مہینوں کے طویل مذاکرات کے بعد طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے مطابق اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد تباہ شدہ غزہ کی پٹی کے انتظام کی ذمہ داری کون سنبھالے گا۔ خاص طور پر چونکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس سے قبل فلسطینی اتھارٹی یا حماس کی جانب سے غزہ کا انتظام سنبھالے جانے پر اعتراض کیا تھا۔