امریکی صدر کے قتل کے پہلے واقعے کے بعد تقریبِ حلف برداری کس طرح منعقد ہوئی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سال 1861 سے 1865 کے بیچ ریاست ہائے متحدہ امریکا اس خانہ جنگی کے اثرات کا سامنا کر رہی تھی جو جنوبی ریاستوں کی علاحدگی کے بعد شروع ہوئی تھی۔ یہ خانہ جنگی امریکیوں کی تاریخ میں سب سے خون ریز تنازع ثابت ہوا جس کے نتیجے میں 6 لاکھ سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ریپبلکن امیدوار ابراہم لنکن کے صدر منتخب ہونے کے بعد جنوبی ریاستوں نے وفاق کے اتحاد سے نکل جانے کا اعلان کیا۔ دوسری مدت کے لیے صدر بننے کے چند ماہ بعد 15 اپریل 1865 کو فورڈ تھیٹر میں ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ لنکن کی موت کے بعد اسی روز صدارت کا منصب لنکن کے نائبAndrew Johnson کے حوالے کر دیا گیا جو اس سے پہلے ٹینیسی کی ریاست کے فوجی گورنر کے طور پر کام کر چکے تھے۔

اس طرح 15 اپریل 1865 کو Kirkwood House عمارت کے ایک ہال میں اینڈریو جونسن کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی۔ وہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی تاریخ کے 17 ویں صدر بن گئے۔ سپریم کورٹ کے سربراہSalmon P. Chase نے نئے صدر سے حلف لیا۔

تقریب حلف برداری میں لنکن حکومت کے بعض ارکان اور کانگریس کی نمائندگی کرنے والے بعض ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔

لنکن کے قتل کی تصویر کشی کرنے والی پینٹنگ

اس زمانے کی اخباری رپورٹوں کے مطابق جونسن نے صبح گیارہ بجے حلف اٹھایا۔ اس کے بعد نئے صدر نے افتتاحی خطاب بنا کسی تیاری کے کیا۔ انھوں نے لنکن حکومت کے وزراء اور مشیران سے درخواست کی کہ وہ امریکی تاریخ کے اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ رہیں اور ان کی معاونت کریں۔ اس کے بعد جونسن نے وفاق سے علاحدہ ہونے والی جنوبی ریاستوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اینڈریو جونسن کے اس خطاب کے بعد ملے جلے ردود عمل سامنے آئے۔ سیاست دانوں کی تھوڑی سی تعداد نے اس کا خیر مقدم کیا جب کہ دیگر نے اس افتتاحی خطاب پر اپنی تشویش اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے کمزور اور غیر موزوں قرار دیا۔ ادھر جونسن نے ابراہم لنکن کے کمرے کا دورہ کیا تاہم جب لنکن کی بیوہ نے نئے صد کو دیکھا تو چلانے لگیں اور صدر کو کمرے سے باہر نکال دینے کا مطالبہ کیا۔

اینڈریو جونسن کی تقریب حلف برداری کے بعد کئی افواہیں پھیل گئیں۔ ان میں ایک افواہ یہ بھی تھی کہ جونسن اس تقریب کے روز شدید نشے کی حالت میں تھے اور انھیں بیدار کرنے میں کئی منٹ لگ گئے۔

حلف برداری سے قبل تقریب کی تیاری کے سلسلے میں جونسن کے لیے ایک ڈاکٹر اور ایک حجام کو بلوایا گیا جو نئے صدر کی حالت کو درست کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں