سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے کمانڈر نے العربیہ چینل کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں شام کی نئی انتظامیہ کے کمانڈر انچیف احمد الشرع کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں خصوصی تفصیلات کا انکشاف کیا۔
سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے کمانڈر مظلوم عبدی نے مطالبہ کیا ہے کہ شام کے نئے حکام کرد زبان کو تسلیم کریں اور شام کے سرکاری نام سے لفظ "عربی" کو ہٹا دیں۔ ہم نے آزادی کا پرچم بلند کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اس تجویز پر شام کے تمام طبقے متفق ہیں۔
العربیہ/الحدث کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے کمانڈر نے شام کی نئی انتظامیہ کے کمانڈر انچیف احمد الشرع کے ساتھ اپنی بات چیت کے بارے میں خصوصی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "میں نے انہیں عربی میں سلام کیا۔ اس نے جواباً مجھے کرد زبان میں جواب دیا‘‘۔
کرد فورسز نے ہتھیار پھینکنے یا خود کو تحلیل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا
ایک سوال کے جواب میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے کمانڈر مظلوم عبدی نے تصدیق کی ہے کہ ان کی افواج نے ہتھیار حوالے کرنے یا خود کو تحلیل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے بلکہ وہ مستقبل کی شامی فوج میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ انضمام کے معاملے پر بات چیت کے علاوہ کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع میں فوجیں بڑے مسائل کا باعث بنیں گی۔
عبدی نے العربیہ/الحدث کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں مزید کہا کہ انہیں وزارت دفاع میں دھڑوں کو ضم کرنے کے لیے اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، اور نئی انتظامیہ کے رہنما احمد الشرع سے دھڑوں کی ملاقات کے نتائج سے انہیں کوئی سروکار نہیں کیونکہ وہ اس کا حصہ نہیں تھے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ انہوں نے افواج کے انضمام کے معاملے کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ فوجی کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی اور وہ شام میں دو فوجیں رکھنے کے خیال کے خلاف تھے۔
انہوں نے کہا کہ نئی انتظامیہ کے رہنما شرع کے ساتھ تعلقات کا تعین الفاظ سے نہیں اعمال سے ہوتا ہے۔
انٹرویو میں عبدی نے ترکیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ "شمال مشرقی شام میں اپنے کنٹرول کے علاقوں کو متحد کرنے کے لیے عین العرب شہر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے"۔
انہوں نے وضاحت کی کہ "تشرین ڈیم میں لڑائیاں جاری ہیں۔ہم ترکیہ کے ساتھ مسئلہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے تھے مگر انقرہ نے انکار کردیا۔
انہوں نے کہا کہ "ہم عراق کے کردستان علاقے کے تجربے کو دہرانے کی کوشش نہیں کرتے۔ آئین میں شام کے کردوں کے حقوق کی ضمانت ہونی چاہیے، ہم شامی علاقے کے اتحاد کے ساتھ ہیں"۔
شام میں امریکی افواج کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی موجودگی نقطہ نظر کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم شام میں امریکی افواج کو رکھنے کے حق میں ہیں‘‘۔
عبدی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے انہیں ڈرون فراہم نہیں کیے۔ انہیں تہران سے ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے۔
" ایس ڈی ایف" کے وفد کا دورہ دمشق
شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ایک وفد نے جس کی ریڑھ کی ہڈی کرد جنگجوؤں پر مشتمل ہے نے دمشق میں نئی انتظامیہ کے سربراہ احمد الشرع سے 30 دسمبر کو ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں فریقین کے درمیان پہلی بار دو طرفہ مسائل اور بشارالاسد کی معزولی کے بعد ملک کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
اسد کی شکست کے بعد شامی کردوں نے اپنے اداروں پر حزب اختلاف کے دھڑوں کی طرف سے اختیار کردہ آزادی کا جھنڈا لہر ایا۔ یہ اقدام نئی اتھارٹی کے لیے خیر سگالی کے جذبے کا اظہار تھا۔ واشنگٹن نے اس کا خیرمقدم کیا۔