ٹرمپ انتظامیہ تقریباً 1,660 افغان مہاجرین کے لیے پروازیں منسوخ کر رہی ہے: عہدیدار

انتظامی حکمنامے کے ذریعے نئے صدر نے پناہ گزینوں کی معطلی کے حکم نامے پر دستخط کر دیئے، ایپ بھی بند کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایک امریکی عہدیدار اور پناہ گزینوں کی آباد کاری کے ایک سرکردہ وکیل نے پیر کو بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی پناہ گزینوں کے پروگرام کو معطل کرنے کے حکم کے تحت تقریباً 1,660 افغان باشندے اپنی پروازیں منسوخ کر رہے ہیں۔ یہ امریکی حکومت کی طرف سے امریکہ میں دوبارہ آباد ہونے کے لیے کلیئر کیے گئے افراد ہیں جن میں سرگرم امریکی فوجی اہلکاروں کے اہلِ خانہ بھی شامل ہیں۔

سابق امریکی فوجیوں اور وکالت کرنے والے گروپوں کے اتحاد کے سربراہ شان وان ڈائیور نے کہا کہ اس گروپ میں امریکہ میں اپنے خاندانوں سے دوبارہ ملنے کے منتظر نابالغ بچے اور طالبان کے انتقام کے خطرے سے دوچار افغان بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فیصلے سے ہزاروں دوسرے افغان باشندے بھی غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہیں جنہیں امریکہ میں پناہ گزین کے طور پر دوبارہ آباد کرنے کی منظوری دی گئی لیکن انہیں ابھی تک افغانستان یا ہمسایہ ملک پاکستان سے پروازیں تفویض نہیں کی گئی ہیں۔

ٹرمپ نے اپنی 2024 کی فاتحانہ انتخابی مہم میں تارکینِ وطن پر کریک ڈاؤن کا ایک بڑا وعدہ کیا تھا جس سے امریکی پناہ گزینوں کے پروگراموں کی قسمت غیر یقینی کا شکار ہو گئی۔

وائٹ ہاؤس اور امریکی پناہ گزینوں کے پروگراموں کی نگرانی کرنے والے محکمۂ خارجہ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

وان ڈائیور نے کہا، "افغان اور وکلاء گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ مجھے آج ہی چار بار اپنا فون ری چارج کرنا پڑا ہے کیونکہ بہت زیادہ لوگ مجھے کال کر رہے ہیں۔"

انہوں نے ٹرمپ کی نئی ٹیم کے ساتھ رابطوں کے بارے میں کہا، "ہم نے انہیں خبردار کیا کہ ایسا ہونا ہی تھا لیکن انہوں نے بہرحال ایسا کیا۔ ہمیں امید ہے کہ وہ دوبارہ غور کریں گے۔"

وین ڈائیور کی تنظیم ایک اہم اتحاد ہے جو افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے امریکی حکومت کے ساتھ مل کر افغانوں کو نکالنے اور امریکہ میں آباد کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کابل سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد سے تقریباً 200,000 افغان باشندوں کو امریکہ لا چکی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک آئندہ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ پیر کو دوسری مدت کے لیے صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد ٹرمپ کو جن درجنوں صدارتی حکم ناموں پر دستخط کرنا تھے، ان میں سے ایک امریکی پناہ گزینوں کے پروگراموں کو کم از کم چار ماہ کے لیے معطل کرنا تھا۔

وان ڈائیور نے کہا، "ہم جانتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جن بچوں کے ساتھ کوئی نہیں، (افغان) پارٹنر فورسز جنہوں نے ہمارے فوجیوں کے ساتھ تربیت حاصل کی، لڑے اور مرے یا زخمی ہوئے، اور امریکی سروس کے حاضر ڈیوٹی ارکان کے خاندان پھنس جائیں گے۔"

وین ڈائیور اور امریکی اہلکار نے کہا کہ امریکہ میں پناہ گزینوں کے طور پر دوبارہ آباد ہونے کی منظوری حاصل کرنے والے افغانوں کو ان پروازوں سے ہٹایا جا رہا ہے جنہیں اب سے لے کر اپریل کے درمیان کابل سے روانہ ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ افغانوں کی ایک نامعلوم تعداد بھی اس گروپ میں شامل ہے جنہوں نے پناہ گزین کا درجہ حاصل کیا کیونکہ انہوں نے امریکی ٹھیکے داروں یا امریکہ سے منسلک تنظیموں کے لیے کام کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں