امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو اپنے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنکر سے "غیر قانونی ترکِ وطن" سے متعلق خدشات پر تبادلۂ خیال کیا۔
اہمیت
نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو عہدہ سنبھالا اور بڑی تعداد میں صدارتی حکم نامے جاری کیے جن کا مقصد غیر قانونی ترکِ وطن پر قابو پانا اور لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کے ہدف کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے گذشتہ سال ترکِ وطن کو اپنی انتخابی مہم کا اہم مسئلہ بنایا تھا۔
بلومبرگ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو اطلاع دی، بھارتی حکومت امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم اپنے تمام شہریوں کی شناخت اور انہیں واپس لے جانے کی غرض سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک نے مل کر تقریباً 18,000 غیر قانونی بھارتی تارکینِ وطن کی نشاندہی کی ہے جنہیں وطن واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
کلیدی اقتباسات
محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "سیکریٹری خارجہ روبیو نے اقتصادی روابط مستحکم کرنے اور غیر قانونی ترکِ وطن سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی بھارت کے ساتھ کام کرنے کی خواہش پر بھی زور دیا۔"
سیاق و سباق
بھارت نے اپنی طرف سے علیحدہ طور پر کہا ہے کہ ہنر مند پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت بھارت اور امریکہ کے تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے اور ایچ-ون بی ویزوں پر بحث کے درمیان یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ ان ویزوں پر ٹرمپ اور ان کے ارب پتی حامی ایلون مسک نے حمایت کی پیشکش کی۔
بھارت آئی ٹی پروفیشنلز کی بڑی تعداد کے لیے مشہور ہے جن میں سے کئی دنیا کے مختلف ممالک میں کام کرتے ہیں۔اس لحاظ سے امریکہ کی طرف سے جاری کردہ ایچ-ون بی ویزوں کا بڑا حصہ بھارت کو ملتا ہے۔
ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ اس پروگرام کی مکمل حمایت کرتے ہیں جس کی ان کے بعض حامیوں نے مخالفت کی تھی جب مسک نے اس کے دفاع کا عزم ظاہر کیا تھا۔ امریکہ نے 30 ستمبر 2023 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 265,777 ایچ-ون بی ویزے بھارتیوں کو جاری کیے جو ان کا تقریباً 78 فیصد ہیں۔