بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں پیر کے روز نئے قوانین کا نفاذ ہو گیا ہے۔ ان کی رو سے ریاست میں ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شادی کے لیے مردوں کی کم سے کم قانونی عمر 21 برس اور خواتین کے لیے 18 برس مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ریاست میں مرد اور عورت کے لیے میراث کی تقسیم کا حصہ برابر کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ تبدیلیاں ذاتی حیثیت سے متعلق قانون میں کی گئی ہیں جب کہ بھارت میں پہلے مختلف مذاہب کے لوگوں کو اپنے عقائد اور رواج کے مطابق عمل کرنے کی اجازت تھی۔ ان مذاہب کے پیروکاروں میں نمایاں ترین مسلمان ہیں جن کی تعداد ملک میں 21 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اسلامی جماعتوں نے نرندرا مودی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے قوانین کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔
بھارت میں "اسلامک پولیٹیکل کونسل" کے سربراہ تسلیم احمد رحمانی کا کہنا ہے کہ "یہ مسلمان مخالف قانون ہے جس کو ہندو اکثریت حکومت نے جاری کیا۔ تاہم ہم احتجاج اور مظاہرے نہیں کریں گے کیوں کہ مسلمانوں نے ہار تسلیم کر لی ہے، وہ جانتے ہیں کہ ہندو اکثریت جیت گئی"۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق مودی حکومت کی جانب سے ان نئے قوانین کے نفاذ کے لیے "اتراکھنڈ" ریاست کا انتخاب کوئی حیرت کی بات نہیں کیوں کہ یہاں مسلمانوں کی تعداد تھوڑی ہے جو پہاڑی علاقوں میں پھیلے ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے حکمراں بھارتی جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکار سنگھ کو امید ہے کہ نئے قوانین کا تجربہ کامیاب رہے گا۔ اس کے بعد ان قوانین کو پارٹی کے زیر حکومت دیگر ریاستوں میں نافذ کیا جائے گا۔
نئے قوانین کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان سے مسلمان خواتین کو دیگر خواتین جیسے حقوق حاصل ہو جائیں گے۔ ان میں ایک سے زیادہ شادی پر پابندی اور میراث میں مردوں کے برابر حصہ شامل ہے۔ نئے قوانین کی رو سے طلاق کا عمل شہری عدالت کے سامنے مکمل ہو گا۔ مزید یہ کہ جوڑوں کو دو مختلف جنسوں کے درمیان تعلقات کا اندراج کرانا لازم ہو گا۔ بصورت دیگر 3 ماہ قید یا جرمانے کی سزا کا سامنا ہو گا۔