گوگل میپس نے 'خلیج میکسیکو' کا نام بدل کر 'خلیج امریکہ' رکھ دیا

یہ تبدیلی صرف امریکہ میں دکھے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے کل پیر کو اپنے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ گوگل میپس امریکی جغرافیائی ناموں کے نظام میں باضابطہ طور پر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد "خلیج میکسیکو" کا نام تبدیل کر کے "خلیج آف امریکہ" کر دیا گیا ہے۔

کمپنی نے وضاحت کی کہ یہ تبدیلی صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ میں نظر آئے گی، جب کہ میکسیکو کے اندر "گلف آف میکسیکو" کا نام استعمال میں رہے گا۔ دونوں ممالک سے باہر کے صارفین کے لیے دونوں نام گوگل میپس پر ایک ساتھ نظر آئیں گے۔

خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے محکمہ داخلہ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے باضابطہ طور پر ’خلیج میکسیکو‘ کا نام بدل کر ’خلیج امریکہ‘ کر دیا ہے۔ الاسکا میں شمالی امریکہ کے سب سے اونچے پہاڑ ڈینالی کا نام تبدیل کر کے ماؤنٹ میک کینلے رکھ دیا گیا ہے۔

گوگل نے کہا کہ وہ ماؤنٹ میک کینلے کے لیے اپنے نقشوں میں اسی طرح کی تبدیلی کرے گا۔

یہ فیصلے صدر ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ انتخابی وعدوں کی تکمیل کے لیے 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے چندگھنٹے بعد کیے گئے جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

"صدر کی ہدایت پر گذشتہ ہفتے وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ خلیج میکسیکو کو اب باضابطہ طور پر خلیج امریکہ کے نام سے جانا جائے گا۔شمالی امریکہ کی سب سے اونچی چوٹی ایک بار پھر ماؤنٹ میک کینلے کا نام سے موسوم ہوگئے "۔

اس ماہ کے شروع میں میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے مذاق میں شمالی امریکہ بشمول ریاستہائے متحدہ کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے اس کے لیے "میکسیکن امریکہ" کا نام تجویز کیا تھا۔

گوگل کے ترجمان نے ایکس پر کمپنی کی پوسٹ کے حوالے سے اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں