احمد الشرع کی شام کے صدر کی تعیناتی کی تقریب میں 18 گروپوں کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

شام میں ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے عبوری دور کے دوران ملک کے صدر کا عہدہ احمد الشرع کو سونپ دیا ہے۔ شام کے سابق صدر بشار الاسد کی معزولی کے دو ماہ سے بھی کم عرصہ کے بعد نئے صدر کا تقرر کردیا گیا ہے۔

یہ اعلان "شامی انقلاب کی فتح کا اعلان کرنے والی کانفرنس" کے دوران کیا گیا۔ یہ کانفرنس بدھ کی شام دمشق میں منعقد کی گئی تھی۔ اس میں فوجی آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کے مسلح گروپوں کے ارکان نے شرکت کی تھی۔ کرد فورسز پر مشتمل شامی جمہوری فورسز (SDF) نے شرکت نہیں کی۔ تاہم 18 دیگر دھڑوں کے ارکان موجود تھے۔ حاضر ہونے والے گروپوں میں ھیئہ تحریر الشام، تحریک احرار الشام ، جیش العزہ، جیش الشام، انصار التوحید، فیلق الشام، جیشن الاحرار، جیش الاسلام، حلقہ نور الدین زنگی اور الجبھۃ الشامیہ شامل تھے۔

حیران کن بات یہ تھی کہ کانفرنس کے نتائج پر ان گروپوں کا ایک ایسی پوزیشن میں معاہدہ ہوا تھا جو پچھلے سالوں کے برعکس ایسا پہلا معاہدہ تھا۔ ماضی میں شام کے میدان میں ان میں سے بہت سے لوگوں کے درمیان مقابلہ اور لڑائی دیکھی گئی تھی۔

ھیئہ تحریر الشام

ھیئۃ تحریر الشام نے بشار الاسد کا تختہ الٹنے کی لڑائیوں کے دوران فوجی کارروائیوں کی قیادت سنبھالی تھی۔ یہ شام کا سب سے مضبوط مسلح گروہ تھا۔ تاہم اس سے پہلے یہ گروپ بڑی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ اس کی بنیاد 2012 میں "النصرہ فرنٹ" کے نام سے رکھی گئی تھی، پھر اس گروپ نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ 2013 میں علیحدگی اختیار کرلی اور داعش سے اتحاد کرلیا تھا۔ 2016 میں یہ گروپ داعش سے بھی علیحدہ ہوگیا اور اس نے اپنا نام بدل کر ’’ ھیئہ تحریر الشام‘‘ رکھ لیا۔

اس کے سب سے اہم عناصر میں "ریڈ بینڈز" گروپ ہے جسے "ھیئہ تحریر الشام" کی ایلیٹ فورسز سمجھا جاتا ہے۔ یہ گروپ بشار الاسد کی افواج کے خلاف حالیہ لڑائیوں کو حل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

جیش العزہ

جیش العزہ آزاد شامی فوج کا گروپ ہے۔ انہوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی لڑائیوں میں حصہ لیا۔ اس کے ارکان شمالی شام خاص طور پر حماۃ کے دیہی علاقوں میں بھی سرگرم رہے۔ اس گروپ کی قیادت میجر جمیل الصالح کر رہے ہیں۔

جیش الاسلام

جیش الاسلام شام کے منظر نامے پر سب سے مضبوط دھڑوں میں سے ایک تھا اور اس کی پوزیشن دمشق کے علاقے مشرقی غوطہ میں مرکوز تھی۔ تاہم اسے ایک معاہدہ کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے تحت اس نے برسوں پہلے اس علاقے کو شمالی شام کی طرف چھوڑ دیا۔

تحریک احرار الشام

یہ ملک کے شمال میں شام میں جنگ کے آغاز میں بننے والے اولین دھڑوں میں سے ایک تھا۔ یہ منظر نامے کے مضبوط ترین دھڑوں میں سے ایک تھا لیکن 2014 میں اسے اس وقت شدید دھچکا لگا جب طیاروں نے اس کے زیر زمین ہیڈ کوارٹرز کو اس وقت نشانہ بنایا جب اس کے رہنما ایک میٹنگ میں تھے۔ اس حملے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

جنوبی دھڑے

درعا کے دھڑے دمشق پہنچنے والے حزب اختلاف کے پہلے گروپوں میں سے تھے۔ یہ سابق حکومت کے وزیر اعظم کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ شام کے حالات ٹھیک ہونے تک وزیر اعظم کو اپنے فرائض سنبھالنے کا کہا گیا۔

انصارالتوحید

یہ "جند الاقصی" کی باقیات سے تشکیل پانے والا ایک دھڑا ہے جسے شامی اپوزیشن اور ھیئہ تحریر الشام نے ختم کر دیا۔ اس کا صرف لواء الاقصیٰ کے نام سے ایک حصہ باقی رہ گیا۔

فیلق الشام

اس گروپ کو فیلق حمص کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ جنگ کے دوران اعتدال پسند اسلام پسندوں کی طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے قائم کردہ حزب اختلاف کے گروپوں کا اتحاد ہے۔

نورالدین زنگی تحریک

یہ ایک انقلابی تحریک ہے جس نے 2014 اور 2015 کے درمیان شام کی جنگ میں حصہ لیا۔ یہ انقلابی کمانڈ کونسل کا حصہ تھی۔

عبوری مرحلہ

یادرہے 8 دسمبر 2024 کو ھیئہ تحریر الشام کی زیر قیادت مسلح دھڑوں نے بشار الاسد حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ صدر کی معزولی کے دو ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد شام میں ملٹری آپریشنز کے محکمے نے اعلان کیا کہ عبوری دور میں ملک کے صدر کا عہدہ احمد الشرع کو سونپ دیا گیا ہے۔

اس نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور عبوری مدت کے لیے ایک عارضی قانون ساز کونسل کی تشکیل دینے کا کام احمد الشرع کو تفویض کیا ہے۔ اعلامیے میں 2012 میں آئین کی معطلی اور اس کے بعد ملک کے لیے ایک نئے آئین کے مسودے پر کام کرنے کی بھی شرط رکھی گئی۔ نیز فیصلوں میں شامی فوج کو تحلیل کرنا اور ایک نئے نظریے کے ساتھ مسلح افواج کی تشکیل بھی شامل ہے۔ فیصلے میں سابق حکومت سے وابستہ تمام سیکورٹی سروسز کو تحلیل کرنے کی بھی شرط رکھی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں