جمعرات کو واشنگٹن کے رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب دریائے پوٹومیک میں تربیتی مشن کے دوران ایک امریکی مسافر بردار طیارے کا فوجی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے ساتھ درمیانی فضائی تصادم نے امریکہ میں پیش آنے والے پچھلے مشہور حادثے کی یاد تازہ کردی۔ یہ حادثہ تقریباً 70 سال قبل پیش آیا تھا جب ایک طیارہ ایک فوجی طیارے سے ٹکرا گیا تھا۔ اس میں سوار تمام 67 مسافر ہلاک ہو گئے تھے جن میں 2 فوجی اہلکار بھی شامل تھinے۔
یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ دونوں المناک واقعات میں متاثرین کی ایک ہی تعداد ہے۔
موسم کی خرابی حادثے کی وجہ
پانچ 5 ستمبر 1956ء کو ایک المناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب TWA فلائٹ 2 سے تعلق رکھنے والا ایک سویلین ڈگلس DC-7 طیارہ جو لاس اینجلس سے نیویارک جا رہا تھا ایریزونا میں گرانٹ کینین کے اوپر امریکی فضائیہ کے فوجی طیارے سے ٹکرا گیا۔
حادثہ خراب موسم کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں کم اونچائی والے فضائی حدود میں پیش آیا۔ شدید بادلوں کی وجہ سے حد نگاہ محدود تھی جس کی وجہ سے پائلٹ اس علاقے میں موجود دیگر طیاروں کو دیکھنےمیں ناکام رہے تھے۔
تربیتی سفر اور 67 ہلاک
اس کے علاوہ فوجی طیارہ تربیتی مشن پر تھا اور اس علاقے میں فوجی اور سویلین طیاروں کے درمیان خاطر خواہ ہم آہنگی نہیں تھی،جس کے نتیجے میں دونوں طیاروں میں سوار تمام افراد، 67 افراد جن میں 58 مسافر اور عملے کے 7 افراد ہلاک ہو گئے۔
اس واقعے کو اس وقت امریکی تاریخ میں سویلین اور فوجی طیاروں کے درمیان ہونے والے سب سے بڑے تصادم میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ حادثے کے نتیجے میں دونوں طیاروں میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔
اس سے عالمی ہوا بازی کی صنعت میں بھی بڑی تبدیلیاں آئیں۔سول اور ملٹری ایوی ایشن کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے معیارات کے ساتھ ساتھ بہتر ہوائی ٹریفک کنٹرول سسٹم قائم کیا گیا۔
بہتر فضائی ٹریفک کنٹرول ٹیکنالوجیز بھی متعارف کرائی گئی ہیں اور خراب موسم میں فضائی حفاظت کے طریقہ کار کو بہتر بنایا گیا ہے۔
امریکن ایئر لائنز نے آج اعلان کیا کہ اس بدقسمت طیارے میں 64 افراد سوار تھے۔
امریکی فوج نے بتایا کہ فوجی ہیلی کاپٹر میں 3 فوجی سوار تھے جب کہ ایک امریکی اہلکار نے اعلان کیا کہ ان تینوں فوجیوں کی حالت ابھی تک معلوم نہیں ہے۔