قرآن پاک نذر آتش کرنے والا سویڈش شہری اسلام دشمنی پھیلانے کا مرتکب قرار : سویڈش عدالت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سویڈن کی عدالت نے سر عام قرآن پاک کو نذر آتش کرنے والے دہشت گرد شہری کو پیر کے روز باضابطہ طور پر اسلام دشمنی اور نفرت پھیلانے کا مرتکب قرار دیا ہے۔

یہ عدالتی حکم اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک شہری کے پانچ روز قبل ہلاک ہو جانے کے بعد ایک اور کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

سویڈن کے شہری سلوان نجیم کو سال 2023 میں قرآن پاک نذر آتش کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔ جبکہ اس کے عراقی ساتھی سلوان مومیکا کو گزشتہ ہفتے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقدمہ کا فیصلہ سنایا جانا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ قتل سے متعلق ابھی تک کسی پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔ تاہم پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا لیکن بعد ازاں انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔

سویڈن کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس قتل کے پیچھے کسی غیر ملکی ریاست کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

سٹاک ہوم کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے جاری کردہ کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ 50 سالہ نجیم اور مومیکا قرآن پاک کی بےحرمتی میں ملوث رہے۔ نیز انہوں نے اسلام اور مسجد کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نجیم کو چار مختلف مواقع پر مسلمانوں کے عقائد کے خلاف توہین کے اظہار کے تحت نفرت انگیز جرائم کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وکیل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق استعمال کریں گے۔ وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل کے بیانات اظہار رائے کی آزادی کے عین مطابق ہیں۔

یاد رہے عدالت نے مومیکا کی ہلاکت کے بعد اس کے خلاف جاری مقدمہ خارج کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں