بھارت نے امریکہ کے ٹیکس معاہدے سے نکلنے کے اعلان کے پس منظر میں کہا ہے کہ یہ قابل غور ہے کہ امریکہ کے اس معاہدے سے الگ ہوجانے کے بعد یہ عالمی سطح پر ٹیکس معاہدہ چل سکے گا نہیں۔
بھارتی محکمہ خزانہ سے وابستہ ایک سینیئر افسر کے مطابق بھارت اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے کہ دنیا کے 140 ملکوں کے اتفاق سے کیا گیا یہ معاہدہ اب امریکہ کے نکل جانے سے بروئے کار رہ سکے گا یا نہیں۔
خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ غیر معمولی معاہدہ 2021 میں ممکن بنایا گیا تھا۔ ٹرمپ نے پچھلے ماہ اس سے نکلنے کا اعلان کیا ۔
بھارتی ذمہ دار نے یہ کہے بغیر بھارت اس معاہدے کے ساتھ اب رہے گا یا نہیں صرف یہ کہا ہے کہ امریکہ جیسے ملک کے اس سے نکل جانے کے بعد یہ دیکھنا ہوگا کہ ٹیکس معاہدہ چل سکے گا یا نہیں۔
بھارت کے سیکرٹری خزانہ توہن کانتا پانڈے نے یہ بات بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' روئٹرز ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔
کئی سال تک جمود کا شکار رہنے والے مذاکرات کے بعد پیرس میں قائم ادارے ' آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ' کی میزبانی میں ایک معاہدہ ہو سکا تھا کہ کمپنیاں 15 فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کریں گے۔
بھارتی سیکرٹری خزانہ پانڈے نے کہا ' یہ معاہدہ ایک عالمی نوعیت کا ہے اسے یکطرفہ نہیں چلایا جا سکتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کو ایک عرصے سے کئی تحفظات موجود ہیں جن کا اس ادارے نے ابھی تک ازالہ نہیں کیا ہے۔ '
-
'اہم' مذاکرات کے لیے بھارت روانہ ہو رہا ہوں: سپیکر روسی پارلیمنٹ
روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے چیئرمین ویاچیسلاو ولوڈین نے اتوار کو کہا کہ وہ ...
بين الاقوامى -
دیرینہ پاک-بھارت رقابت: جنوبی ایشیاء میں سفارتی ردوبدل کا آغاز
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دیرینہ رقابتیں علاقائی تعلقات میں تبدیلی کا باعث بن ...
بين الاقوامى -
عالمی رہنما ٹرمپ کا فیصلہ واپس لینے کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالیں: ڈبلیو ایچ او
امریکہ عالمی ادارہ صحت میں سب سے بڑا تعاون کرنے والا ملک، 2024 میں بجٹ میں اس کا ...
بين الاقوامى