اسرائیل شام کی سرزمین پر تین اڈوں کی تعمیر کے لیے سرگرم، سیٹلائٹ مناظر سے انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فوج نے تقریباً دو ماہ قبل مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں شامی دیہاتوں کے ایک سلسلے کو گھیرے میں لے لیا۔اسرائیلی فوجیوں نے مقامی باشندوں کو یقین دلایا کہ ان کی موجودگی عارضی رہے گی، اور یہ کہ مقصد صرف ہتھیاروں کو قبضے میں لینے اور صدر بشارالاسدکے اقتدار کےخاتمے کے بعد علاقے کو محفوظ بنانا تھا۔

لیکن واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مقامی رہائشیوں اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق،شام میں آنے والی اسرائیلی فوجی گاڑیاں زیادہ مستقل موجودگی کا اشارہ دیتی ہیں

اسرائیلی اڈے پر گاڑیاں

سیٹلائٹ تصاویر میں جباتہ الخشب کے علاقے میں اسرائیلی اڈے پر نصف درجن سے زائد گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں، جن میں تقریباً ایک جیسی عمارت جنوب میں پانچ میل دور ہے۔

دونوں کو گولان کی پہاڑیوں میں اترنے کے لیے نئی کچی سڑکوں سے جوڑا گیا ہے جس پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا. یہ صاف کی گئی زمین کا ایک علاقہ ہے جس کے بارے میں جو ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی تیسرے اڈے کے آغاز کی طرح لگتا ہے جو چند میل آگے جنوب میں دیکھا جا سکتا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے 20 دسمبر اور 21 جنوری کو لی گئی تصاویر کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ یہ تصاویر صرف ایک ماہ کے اندر حمیدیہ کے علاقے کے قریب ایک نئے اسرائیلی اڈے کی تعمیر کو ظاہر کرتی ہیں۔

دو فارورڈ آبزرویشن پوسٹس

"وہ فوجی اڈے بنا رہے ہیں یہ کیسے عارضی ہو سکتا ہے؟" یہ الفاظ جباتہ الخشب کے میئر محمد مریود ن کے ہیں جس نے گاؤں کے کنارے پر ایک نئی فوجی چوکی بناتے ہوئے دیکھا۔

المریود نے وضاحت کی کہ اسرائیلی بلڈوزروں نے جباتہ الخشب کے قریب بستی کی چوکی کی تعمیر کے لیے گاؤں میں پھلوں کے درختوں اور قدرتی ذخیرے کے ایک حصے میں واقع دیگر درختوں کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے انہیں بتایا کہ ہم کھیتی باڑی کو ایک پیشہ سمجھتے ہیں اور یہ پھل دار درخت ہماری روز مرہ کی ضرورت کا حصہ ہیں"۔

دو نئے تعمیراتی مقامات جو کہ حال ہی میں شام کے علاقوں میں دیکھے گئے ہیں سے ایسا لگتا ہے کہ یہ فارورڈ آبزرویشن پوسٹیں ہیں، جو گولان کی پہاڑیوں کے اسرائیل کے زیر قبضہ حصے کے ڈھانچے اور انداز سے ملتی جلتی ہیں۔

جبتہ الخشب کا اڈہ زیادہ ایڈوانس دکھتا ہے، جب کہ جنوب میں اڈہ زیر تعمیر دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلا اڈہ فوجیوں کے لیے بہتر مرئیت فراہم کرے گا، جبکہ دوسرا علاقے کے سڑکوں کے نیٹ ورک تک بہتر رسائی کو بہتر بنائے گا۔ تیسرا اڈہ جنوب میں خالی زمین کے علاقے پر بنایا گیا ہے۔

نیا راستہ

سیٹلائٹ امیجز میں قنیطرہ سے تقریباً 10 میل جنوب میں ایک نئی سڑک بھی دکھائی گئی، جو سرحدی لکیر سے لے کر کودانا گاؤں کے قریب ایک پہاڑی کی چوٹی تک پھیلی ہوئی ہے، جس سے اسرائیلی فورسز کو ایک نیا مشاہداتی مقام مہیا کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال دسمبر میں اسد حکومت کے خاتمے کے چند گھنٹوں بعد اسرائیلی ٹینکوں اور فورسز نے "الفا لائن" کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کے اندر پیش قدمی کی تھی۔ یہ پیش قدمی گذشتہ نصف صدی سے جنگ بندی کی سرحد پر اسرائیل کی طرف سے ایک بڑی خلاف ورزیہ سمجھی جاتی ہے۔

بفر زون کی خلاف ورزی

اسرائیلی فوج شام کی سرزمین کے اندر اور کچھ معاملات میں اس سے آگے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بفر زون تک پہنچ گئی۔

اب اسرائیل اور شام کے درمیان 1974 ءکے جنگ بندی معاہدے کے مطابق اسرائیلی افواج 90 مربع میل کے بفر زون کے اندر اور باہر منتقل ہو رہی ہیں۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد اس معاہدے کو کالعدم تصور کرتا ہے۔ مقامی حکام نے بتایا کہ بفر زون اپنی چوڑائی میں تقریباً چھ میل چوڑا تھا، لیکن بعض مقامات پر اسرائیلی افواج اس سے کئی میل آگے بڑھ چکی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں