نئی دہلی کے ریاستی انتخابات: بی جے پی کی کجریوال کو نکال باہر کرنے کی کوشش
عام آدمی پارٹی 2015 اور 2020 میں دہلی میں کامیاب رہی
بھارتی دارالحکومت کے ریاستی مقننہ کے انتخابات میں بدھ کے روز ہزاروں افراد نے ووٹ کا استعمال کیا۔ اس انتخاب میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی ایک طاقتور علاقائی گروپ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس نے ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک نئی دہلی پر حکومت کی ہے۔
ووٹرز نے سردی کے موسم میں بھی پولنگ بوتھ پر جا کر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایک اہم رہنما منیش سسودیا اور دیگر نے ووٹنگ سے پہلے مندر میں پوجا کی۔ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی اروند کیجریوال کے زیرِ قیادت اے اے پی کے خلاف ہے جو نئی دہلی کا انتظام چلاتی ہے۔ اس پارٹی نے اپنی فلاحی پالیسیوں اور انسدادِ بدعنوانی کی تحریک پر ایک وسیع حمایت کی بنیاد قائم کی ہے۔ بدعنوانی کے خلاف ایک مقبول سپاہی کجریوال کو تب ایک دھچکا لگا جب وہ خود بدعنوانی کے الزامات کا شکار ہوئے۔
اے اے پی (آپ) نے 2020 کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے ستر میں سے باسٹھ نشستیں حاصل کیں جبکہ بی جے پی کو صرف آٹھ اور کانگریس پارٹی کو کوئی سیٹ نہیں ملی۔ آپ پارٹی نے 2015 کے ریاستی انتخابات میں بھی 77 نشستوں کے ساتھ کلین سویپ کیا تھا جبکہ بی جے پی نے تین نشستیں حاصل کی تھیں۔ مودی اور کیجریوال دونوں نے سڑکوں پر بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلائی ہے جن میں ہزاروں حامی ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے سرکاری سکولوں کی بحالی، صحت اور بجلی کی مفت خدمات اور غریب خواتین کو 2,000 روپے سے زیادہ ماہانہ وظیفہ دینے کی پیشکش کی ہے۔ ووٹنگ بدھ کی شام ختم ہوئی جس کے نتائج ہفتے کو آنے ہیں۔ نئی دہلی کے انتخابات میں پندرہ ملین سے زیادہ لوگ ووٹ دینے کے اہل ہیں۔
ایک سیاسی مبصر آرتی جیراتھ نے دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا، "اگرچہ آپ پارٹی نمایاں ہوئی ہے لیکن یہ یک طرفہ مقابلہ رہا ہے۔" 20 ملین سے زیادہ آبادی کا شہر دہلی ایک وفاقی علاقہ ہے جہاں مودی کی پارٹی نے 27 سال سے زیادہ عرصے سے کامیابی حاصل نہیں کی ہے حالانکہ وہاں کافی حمایتی بنیاد موجود ہے۔
کیجریوال اور آپ پارٹی کے دیگر راہنماؤں کو حال ہی میں شراب لائسنس کے مقدمے میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک سیاسی تجزیہ کار نیرجا چودھری نے کہا کہ شراب پالیسی کیس نے کیجریوال کی صاف ستھری شہرت کو نقصان پہنچایا۔ گذشتہ سال قومی انتخابات سے قبل کیجریوال کو ان کی پارٹی کے دو اہم رہنماؤں کے ساتھ شراب کے ایک تقسیم کار سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے مسلسل الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی سازش کا حصہ ہیں۔ سپریم کورٹ نے کیجریوال اور دیگر وزراء کو ضمانت پر رہا کرنے کی اجازت دے دی۔ کیجریوال نے بعد میں وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ اپنے سینئر ترین پارٹی لیڈر کے لیے چھوڑ دیا۔
گذشتہ سال کے قومی انتخابات میں اپنے طور پر اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہنے والی بی جے پی نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ اس نے شمالی ہریانہ اور مغربی مہاراشٹرا کی ریاستوں میں دو ریاستی انتخابات جیت کر کچھ کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر لی ہے۔ گذشتہ ہفتے کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار متوسط طبقے پر انکم ٹیکس میں کمی کے بعد مودی کی پارٹی کو فائدہ ہونے کی امید ہے۔ یہ طبقہ اس کے اہم ووٹنگ بلاکس میں سے ایک ہے۔
حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے کجریوال کی گرفتاری کی بڑے پیمانے پر مذمت کی۔ انہوں نے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی مخالفین کو ہراساں اور کمزور کرنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے اور قومی انتخابات سے چند مہینوں پہلے اہم اپوزیشن شخصیات کے خلاف چھاپوں، گرفتاریوں اور بدعنوانی کی تحقیقات کی نشاندہی کی۔
کجریوال نے بدعنوانی کے خلاف جنگ لڑنے کا عزم کیا اور 2012 میں آپ پارٹی تشکیل دی جب اس وقت کانگریس پارٹی کی حکومت کے خلاف بدعنوانی کے ایک سلسلے پر عوام الناس شدید غصے میں تھے۔ ان کی غریب نواز پالیسیوں نے سرکاری سکولوں کو درست کرنے اور سستی بجلی، صحت کی مفت سہولیات اور خواتین کے لیے بس ٹرانسپورٹ کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بی جے پی کو 1998 میں دہلی میں کانگریس پارٹی نے اقتدار سے باہر کر دیا تھا جس نے پندرہ سال تک حکومت چلائی تھی۔ دہلی میں 2015 اور 2020 کے انتخابات میں آپ پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔
-
کیا امریکہ کے عالمی ٹیکس معاہدے سے نکل جانے سے یہ معاہدہ چل پائے گا:بھارت
بھارت نے امریکہ کے ٹیکس معاہدے سے نکلنے کے اعلان کے پس منظر میں کہا ہے کہ یہ قابل ...
بين الاقوامى -
شام : انتخابات کے انعقاد میں پانچ سال لگ سکتے ہیں: احمد الشرع
شام کے صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں انتخابات کے انعقاد میں پانچ سال ...
مشرق وسطی -
پاکستان۔سعودی عرب کے درمیان 1.61 ارب ڈالر کے دو معاہدوں پر دستخط
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان آئل امپورٹ فنانسنگ فیسلٹی پر ایم او یو (مفاہمتی ...
پاكستان