صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ غزہ کے حوالے سے ان کی پیش کردہ تجویز میں"امریکہ کو کسی فوجی کی ضرورت نہ ہو گی۔" چند دن قبل انہوں نے یہ اعلان کیا کہ امریکہ غزہ کی پٹی پر "قبضہ" کر سکتا اور اسے "اپنی ملکیت" میں لے سکتا ہے۔
"امریکہ کو کسی فوجی کی ضرورت نہیں ہو گی! خطے میں استحکام آئے گا!!!" انہوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر صبح سویرے ایک پوسٹ میں کہا۔ ٹرمپ جنہوں نے پہلے غزہ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا امکان ظاہر کیا تھا، اب اپنے تبصروں میں انہوں نے اپنے منصوبوں کی وضاحت کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ کے اختتام پر غزہ کی پٹی کو امریکہ کے حوالے کر دے گا۔ فلسطینیوں کو "خطے میں نئے اور جدید گھروں کے ساتھ پہلے سے زیادہ محفوظ اور زیادہ خوبصورت کمیونٹیز میں دوبارہ آباد کیا جا چکا ہو گا۔"
اس ہفتے کے شروع میں جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو امریکہ کے دورے پر تھے تو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ "امریکہ غزہ کی پٹی کو اپنی تحویل میں لے لے گا۔"
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا، "ہم غزہ کے ساتھ بھی ایک کام کریں گے۔ ہم اس کے مالک ہوں گے۔" اس دوران ان کے ہانپنے کی آواز سنی جا سکتی تھی۔ انہوں نے اس بارے میں بعض تفصیلات پیش کیں کہ امریکہ کس طرح 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو وہاں سے نکال سکتا ہے یا کیسے جنگ زدہ علاقے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔
فلسطینیوں، عرب حکومتوں اور عالمی رہنماؤں کی جانب سے تنقید کی شدید لہر کا سامنا کرنے کے بعد ان کی انتظامیہ بدھ تک اس تجویز سے دستبردار ہوتی نظر آئی۔
ٹرمپ کے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اس خیال کا مقصد دشمنی یا مخالفت نہیں تھا جبکہ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ غزہ میں امریکی فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
-
غزہ کے لوگوں کی سرزمین غزہ ہی ہے: سپین کا اسرائیل کو جواب
غزہ کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ ہونا چاہیے: ہسپانوی وزیر خارجہ
مشرق وسطی -
امریکی فوج تعینات کرنے کی ضرورت نہیں،اسرائیل سے غزہ کی پٹی کو لے کر تعمیر نو کریں گے:ٹرمپ
نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کو "خوشی، محفوظ اور آزادانہ زندگی گزارنے کا موقع ملے ...
مشرق وسطی -
غزہ میں 10 ہزار سے زیادہ امدادی ٹرک داخل ہو چکے ہیں : اقوام متحدہ
اقوام متحدہ میں انسانی امور کے رابطہ کار نے آج جمعرات کے روز بتایا کہ 19 جنوری کو ...
مشرق وسطی