مشرق وسطیٰ

قیدیوں کے تبادلے کی چھٹی کھیپ میں تین اسرائیلیوں کے بدلے 369 فلسطینیوں کی رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کی پٹی میں آج بروز سنیچر اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے چھٹے مرحلے کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں۔ یہ سلسلہ فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے ضمن میں ہے۔ معاہدے کا نفاذ گذشتہ ماہ 19 جنوری کو ہوا تھا۔

تفصیلات کے مطابق حماس تنظیم تین اسرائیلیوں ئائر ہورن، ساجی ڈیکل اور ساشا الیگزینڈر کو رہا کر رہی ہے۔ اس سے قبل مصری اور قطری وساطت کاروں نے اس بحران سے بچنے میں مدد کی جس سے جنگ بندی ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

حماس کے اعلان کے مطابق مذکورہ تینوں اسرائیلیوں کو 369 فلسطینیوں کے مقابل رہا کیا جائے گا۔

حماس تنظیم نے گذشتہ ماہ اس بات پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں 33 اسرائیلیوں کو حوالے کیا جائے گا جن میں خواتین اور بوڑھے شامل ہیں۔ معاہدے کا پہلا

مرحلہ چھ ہفتوں پر مشتمل ہو گا۔ اس دوران میں غزہ کی پٹی کے کچھ علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلا عمل میں آئے گا۔

غزہ میں فائر بندی معاہدے کے نتیجے میں رہائی پانے والے قیدی [اے ایف پی فائل فوٹو]
غزہ میں فائر بندی معاہدے کے نتیجے میں رہائی پانے والے قیدی [اے ایف پی فائل فوٹو]

مذکورہ 33 اسرائیلیوں میں سے اب تک 16 کو رہا کیا جا چکا ہے۔ ان کے علاوہ پانچ تھائی باشندوں کو بھی رہائی کے عمل میں واپس کیا گیا جن کا معاہدے میں فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔

اسرائیلی رپورٹوں کے مطابق غزہ میں باقی 76 اسرائیلیوں میں سے آدھی تعداد ابھی زندہ ہے۔

غزہ میں فائر بندی معاہدے کے نتیجے میں رہائی پانے والے قیدی [اے ایف پی فائل فوٹو]
غزہ میں فائر بندی معاہدے کے نتیجے میں رہائی پانے والے قیدی [اے ایف پی فائل فوٹو]

توقع ہے کہ فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے مذاکرات آئندہ ہفتے شروع ہوں گے۔ اس میں بقیہ اسرائیلی قیدیوں کو سیکڑوں فلسطینیوں کے مقابل رہا کیے جانے کی توقع ہے۔

معاہدے کا تیسرا اور آخری مرحلہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے مخصوص ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق تعمیر نو پر 53 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں