آپ سے فیصلہ کن مقابلے کا لمحہ آ گیا ہے، روسی وزیر دفاع کی مغرب کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے باور کرایا ہے کہ مغرب کے ساتھ مقابلے کا فیصلہ کن لمحہ آ پہنچا ہے۔

بیلوسوف نے یہ بات اسپیشل ملٹری آپریشن کے شرکاء کو "سونے کا تمغہ" دینے کی تقریب کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ "آج روس کے لیے اجتماعی مغرب کے ساتھ مقابلے کا فیصلہ کن لمحہ آ گیا ہے ، ہمارے عظیم ملک کی تقدیر اب ہر فرد اور ہر فوجی اور افسر کے کام پر منحصر ہے۔ ہم مشکل ترین مشنوں کے حل کرنے کے حوالے سے آپ پر اور آپ کی صلاحیت پر اعتماد رکھتے ہیں"۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ عرصہ قبل اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کے گن گاتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ پوتین امن کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں تاہم نائب امریکی صدر نے روس پر پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔

ٹرمپ کے نائب جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اگر پوتین یوکرین کے ساتھ امن معاہدے پر آمادہ نہ ہوئے تو واشنگٹن ماسکو پر سخت پابندیاں عائد کرے گا بلکہ شاید فوجی کارروائی بھی کرے۔

وینس نے واضح کیا کہ اگر ماسکو نیک نیتی سے مذاکرات میں ناکام ہو گیا تو ہمارے سامنے امریکی فوج کو یوکرین بھیجنے کا آپشن بھی ہے۔ امریکی نائب صدر کا لہجہ وزیر دفاع پیٹ ہیگزیتھ سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ ہیگزیتھ بدھ کے روز کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک یوکرین کی سرزمین پر اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔ یہ بات امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بتائی۔

امریکی نائب صدر کے مطابق ایسے اقتصادی اور عسکری آلات بھی ہیں جن کو ان کا ملک پوتین کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے جمعرات کے روز باور کرایا تھا کہ پوتین امن کے لیے کوشاں ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ وہ سات بڑے صنعتی ممالک کے گروپ کی توسیع کی تائید کرتے ہیں تا کہ روس ایک بار اس میں شامل ہو سکے۔ ٹرمپ کے مطابق روس کو گروپ سے خارج کرنا ایک "غلطی" تھی۔

ٹرمپ نے دو روز قبل پوتین کے ساتھ اپنی ٹیلفون بات چیت کو شان قرار دیا۔ امریکی صدر نے بتایا کہ وہ اور پوتین براہ راست ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل امریکی وزیر دفاع نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن، یوکرین کے لیے نیٹو اتحاد کی رکنیت کے حصول کی حمایت نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھنا غیر حقیقی ہو گا کہ یوکرین جس کے بیس فی صد حصے پر روس کا کنٹرول ہے، وہ فروری 2022 میں جنگ چھڑنے سے پہلی کی سرحدیں دوبارہ حاصل کر لے گا۔

ٹرمپ کی ٹیلی فون کال نے یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کا پارہ چڑھا دیا جنھوں نے امریکی اور روسی صدور کے بیچ یوکرین کے ساتھ امن کی بات کرنے پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

ادھر یورپی یونین یہ باور کرا چکی ہے کہ یورپ اور یوکرین کے فعال کردار کے بغیر کوئی امن مذاکرات نہیں ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں