جرمنی : چاقو مارنے کی کارروائی کے شبہ میں شامی شہری گرفتار، یہودیوں کو قتل کرنا چاہتا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک شامی نوجوان شہری کو دارالحکومت برلن میں ہولوکاسٹ کی یادگار کے نزدیک چاقو سے حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس حملے میں ایک ہسپانوی شخص شدید زخمی ہوا تھا۔

شام کے 19 سالہ شہری کو جمعہ کے روز اس کے ہاتھوں پر لگے خون کے دھبوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے ہاتھ میں قرآن پاک کا ایک نسخہ اور ایک جائے نماز تھی۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق اس کے مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے ساتھ بھی گہرے رابطے ہیں۔ تاہم ابھی تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

چاقو سے حملہ کرنے والا شخص جمعہ کے روز شام 6 بجے 30 سالہ ہسپانوی شہری تک پہنچا اور اس کی گردن میں چاقو سے وار کر دیا۔

یہ واقعہ ہولوکاسٹ سے متعلق ایک یادگاری عمارت کے نزدیک پیش ایا ۔ جس کے قریب ہی امریکی سفارتخانہ بھی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ شام کا یہ گرفتار کیا گیا شہری 2023 میں اکیلا جرمنی آیا تھا۔ اس نے جلاوطنی لی تھی اور ایک جلاوطن شہری کے طور پر جرمنی میں ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ لیپزگ نامی شہر کے مشرقی حصے میں رہتا ہے۔

برلن پولیس کی اب تک کی تحقیقات کے مطابق ابی تک کوئی ایسے شواہد نہیں ملے کہ اس کا کسی گروپ کے ساتھ رابطہ ہو یا کسی شخص کے ساتھ اس کے تعلقات ہوں۔

یہ چاقو زنی کا واقعہ الیکشن سے دو روز قبل پیش آیا تھا۔ جب انتخابی مہم اپنے عروج پر تھی ۔ اس واقعے کو 6 لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور واقعہ کے فوری بعد ہی ریسکیو سروسز کے لوگ موقع پر پہنچ گئے۔ جہاں پر خون آلود کپڑے زمین پر پڑے ہوئے تھے۔

خیال رہے جرمن حکومت کے مطابق جرمنی میں یہود دشمنی کے جذبات و واقعات میں غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بعد اضافہ ہوگیا۔ غزہ جنگ جہاں اسرائیلی فوج نے 48000 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا۔ جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں